9 جولائی 2014
وقت اشاعت: 0:24
آئی ڈی پیز کی آمد سے بنوں کے سرکاری اسپتالوں میں رش
بنوں.........شمالی وزیرستان کے متاثرین کی آمد سے بنوں کے سرکاری اسپتالوں میں رش ہے، فلاحی اداروں کے میڈیکل کیمپس میں بھی روزانہ سیکڑوں مریض لائے جا رہے ہیں۔ پمز اسپتال اسلام آباد سے ڈاکٹروں کی ٹیم بھی بنوں پہنچ گئی ہے۔شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرکے بنوں آنے والے متاثرین میں مریضوں کی تعداد زیادہ جبکہ طبی سرکاری کیمپ کم ہیں، طبی عملے کی اسی کمی کے پیش نظر۔ پمز اسپتال اسلام آباد سے چار لیڈی ڈاکٹرز اور 20 ڈاکٹروں سمیت 62 افراد کا اسٹاف اور دو بسوں میں بنائے گئے موبائل اسپتال بھی بنوں پہنچ گئے ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ موسم گرم ہے ایسے میں متاثرین اپنے بچوں کا مسلسل میڈیکل چیک اپ کروائیں۔دوسری جانب، جن آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کا عمل اب تک مکمل نہیں ہوسکا ہے، انہیں ماہ رمضان اور گرم موسم کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ادھر رکن قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی انفارمیشن سیکرٹری عائشہ گلالئی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ شمالی وزیرستان سے مقل مکانی کرنے والے 8 لاکھ 21 ہزار 424 افراد کی رجسٹریشن ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کے لئے کمپلینٹ سیل قائم کردیے گئے ہیں، جہاں آئی ڈی پیز اپنی شکایات درج کرارہے ہیں۔