تیری خوشبو تیری پرچھائی

تیری خوشبو تیری پرچھائی

آج بھی تیرے لیے دل میں چاہتیں باقی ہیں
تجھ سے جو کرنی تھی وہ ادھوری باتیں باقی ہیں

تم نے کیسے سوچ لیا کے ہمیں تیری طلب نہیں
دل میں اتر کے دیکھ ابھی تیری حاجتیں باقی ہیں

کبھی فرصت ملے تو آ کر دیکھ میرے مکان میں
آج بھی تیری خوشبو ، تیری پرچھائی تیری آہٹیں باقی ہیں .

Posted on Feb 16, 2011