تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
25 اگست 2011
وقت اشاعت: 7:43

شاعر احمد فراز کی تیسری برسی

آج نیوز - ساری عمر محبت کی شمعیں جلانے اور اردو شاعری کو عوامی سطح پر قبولیت دلوانے والے خوبصورت شاعر احمد فراز کی تیسری برسی آج منائی جارہی ہے۔ شاعری کی اولیت پر گفتگو کرتے ہوئے احمد فراز نے کہا تھا شاعری کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ لوگوں سے گھنٹوں گفتگو کرکے آپ وہ بات نہیں سمجھا سکتے جو شعر کے دو مصرعوں میں سمجھائی جاسکتی ہے۔ ابلاغ اور اظہار کے اس ذریعے کو ساری عمر خوبصورتی سے استعمال کرتے رہنے والے شاعر احمد فراز کی آج تیسری برسی منائی جارہی ہے۔ وہ چودہ جنوری انیس سو اکتیس کو کوہاٹ میں پیدا ہوئے اور آج اگر وہ زندہ ہوتے تو اپنی اکاسی ویں سالگرہ منارہے ہوتے۔ فراز اعلانیہ کمیونسٹ تھے اور ساری عمر اس عہد میں بندھے رہے۔ انہوں نے جہاں کوچہ جاناں کی سرسبز گلیوں کی سیاحت کی وہیں آدمی کے ہاتھوں آدمی پر روا رکھے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بھی اٹھائی۔ وہ اپنی شاعری اور اپنی گفتگو میں اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ اور انسان کی عزت و وقار کے حامی رہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں انسان دوستی اور فرد کی فرد سے محبت کا فلسفہ پیش کیا۔ ان کی نظم میں جہاں ظلم پر مبنی کے خلاف ایک سنجیدہ اور باشعور فرد کی پکار سنائی دیتی ہے تو ان کی غزلوں میں ایک حساس اور محبت کرنے والا دل بھی دھڑکتا دکھائی دیتا ہے۔ فرد پر فرد کے جبر کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں اور جلا وطنی کا دکھ بھی سہا۔ مگر کوئی ہزیمت انہیں ان کی راہ سے نہیں ہٹا سکی۔ اور وہ پچیس اگست دو ہزار آٹھ کو جلاوطنی کے عالم میں لندن کے ایک اسپتال میں کوچہ جاناں کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ گئے۔ فراز ان خوش قسمت شاعروں میں شامل رہے جنہیں ان کی زندگی میں بھی بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور وفات کے بعد بھی ان کے درجات بلند رہے۔ ایسی شہرت اور ایسی اْجلی محبت اردو زبان کے بہت کم شاعروں کے حصے میں آئی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.