میں اس حصار سے نکلوں تو کچھ اور سوچوں


میں اس حصار سے نکلوں تو کچھ اور سوچوں
تمھارے پیار سے نکلوں تو کچھ اور سوچوں


تیری گلی کے علاوہ بھی اور قریے ہیں
جو اس دیار سے نکلوں تو کچھ اور سوچوں


تمھارے حجر کی صدیاں تمھارے وصل کے دن
میں اس شمار سے نکلوں تو کچھ اور سوچوں


رچا ہوا ہے تیرا عشق میری پوروں میں
میں اس خمار سے نکلوں تو کچھ اور سوچوں


یہ میرا جسم کے ماتم سراع حسرت ہے
میں اس مزار سے نکلوں تو کچھ اور سوچوں


یہ مجھ میں کون میری رات دن سنبھلتا ہے ؟
اس اختیار سے نکلوں تو کچھ اور سوچوں


تمھاری جسم کی خوشبو نے کردیا مسحور
اس آبشار سے نکلوں تو کچھ اور سوچوں


یہ بے قراری میری روح کا اجالا ہے
میں اس قرار سے نکلوں تو کچھ اور سوچوں

Posted on Aug 27, 2012