پہیلیاں

ہاتھ نہیں ہیں پائوں نہیں ہیں
پھر بھی چلتی پھرتی ہے وہ
کھلی ہوا میں دم گھٹتا ہے
تڑپ تڑپ کر مرتی ہے وہ

Posted on Oct 10, 2012