تم پاس ہوتے تو کوئی شرارت کرتے

تم پاس ہوتے تو کوئی شرارت کرتے
تجھے لے کر بانہوں میں محبت کرتے


دیکھتے تیری آنکھوں میں نیند کا خمار
اپنی کھوئی ہوئی نیندوں کی شکایت کرتے


تیری آنکھوں میں اپنا عکس ڈھونڈتے
خود سے بھی ذیادہ تیری چاہت کرتے


اک دل ہی تھا وہ بھی اسکے پاس ہی تھا
رات بھر جاگ کر کس کی حفاظت کرتے

Posted on Aug 25, 2012