13 اگست 2011
وقت اشاعت: 8:59
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
کراچی : جدید تعلیم اور روشن خیالی کے باوجود دنیا کا بڑا حصہ آج بھی ایسا ہے جہاں بیٹے کو بیٹی پر فوقیت دی جاتی ہے۔اور اب میڈیکل سائنس نے اس انتخاب کواور آسان بنادیا ہے۔سو زمانہ ء جاہلیت کی سوچ پھر غالب آرہی ہے اور اس سوچ کے نتیجے میں مرد و خواتین کا تناسب بگڑتا جارہا ہے۔مثلا ایشیا میں مردوں کی تعداد عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوگئی ہے یعنی مردوں کے مقابلے میں ایک سو ساٹھ ملین عورتیں کم ہیں۔
ایسا بالکل نہیں ہے کہ یہ عورتیں اچانک کہیں چلی گئیں ہیں،ہوا یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے جاری صنفی انتخاب نے اس تناسب کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔اس صورتحال کو چین میں کام کرنے والی ایک سائنس جرنلسٹ نے اپنی کتاب میں واضح کیا ہے۔کتاب میں بتایا گیا ہے چین اور بھارت جیسے ممالک آبادی میں کمی کو اقتصادی ترقی کا راستہ سمجھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک میں یہ توازن بگڑتا جارہا ہے۔
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ چند برسوں میں ویتنام سے ہزاروں عورتیں چین۔جنوبی کوریااور تائیوان اسمگل کی گئیں۔مصنفہ کا کہنا ہے کہ اس صنفی توازن کے بگڑنے سے بھارت میں قتل اور دیگر جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔وہ ایک جگہ لکھتی ہیں کہ جیسے جیسے متوسط طبقہ پھیلتا جائے گا لڑکیاں ناپید ہوتی جائیں گی۔ البانیہ اور اور دیگر خطوں میں یہ توازن پہلے ہی بگڑ چکا ہے۔مصنہ کا کہنا ہے کہ یہ غیر فطری توازن خطرناک نتائج پیدا کرنے والا ہے ۔