تازہ ترین سرخیاں
 دلچسپ خبریں 
2 اپریل 2014
وقت اشاعت: 12:15

مچھیروں کی بستی میں دادی اماں نے اسکول کی بنیاد رکھ دی

کراچی …دن کا اجالا ہو جائے تو رات کی تاریکی چھٹ جاتی ہے۔علم و آگہی اور شعور ایسی ہی روشنی ہیں جنکے سامنے جہل کے اندھیرے نہیں ٹک سکتے۔ کراچی میں مچھیروں کی خستہ حال بستی میں رہنے والی ایک علم دوست بوڑھی دادی اماں خود تو نہ پڑھ سکیں لیکن اسکول کی بنیاد ضرور رکھ دی۔بوڑھی ٹانگوں میں اب اتنی سکت نہیں کہ بغیر سہارے چل سکیں،لیکن مسافر کو یہ یقین ہے کہ فاصلہ ضرور طے ہوگا۔ لاٹھی ساتھ ہے تو کیا ہوا۔منزل قریب ضرور آئے گی اور راستے کے ساتھ تاریکیاں بھی گھٹتی جائیں گی،یہی عزم ہے اس بوڑھی عورت کا۔اسی لئے یہ قدم علم کی راہ میں ہر صبح اٹھتے ہیں۔دادی اماں کہلانے والی یہ عورت اپنے چھوٹے سے گاوٴں کے ہر بچے کو تعلیم سے آراستہ دیکھنا چاہتی ہے جبھی توروزانہ گھر گھر دروازہ کھٹکھٹا کربچوں کو اٹھا کر اپنے اسکول لانا ان کا معمول بن گیا ہے اور انہوں نے اپنی چھوٹی سی جھگی کو اسکول بنا دیا ہے جس کا نام دادی اماں اسکول رکھا ہے ۔ خواہش ہے تو بس یہی کہ گوٹھ کے بچے پڑھ لکھ جائیں۔یہاں رہنے والی ایک طالبہ ہی اس گوٹھ کے بچوں کو استانی کے طور پر پڑھاتی ہے۔ انہیں یقین ہے کہ چراغ سے چراغ تو خود جلتا ہے، صرف پہلا دیا جلا نا مشکل ہوتا ہے۔دادی اماں نے علم کا پہلا چراغ روشن کردیا ہے۔ماہی گیروں کے گوٹھ کے یہ بچے جب الف ب پ اور اے بی سی ڈی مل کر پڑھتے ہیں تو لگتا یہی ہے کہ علم کی یہ توانا آواز اس گاوٴں میں جہل کا اندھیرا ختم کر ہی دے گی اور اور دادی اماں کی بوڑھی کوشش ایک دن ضرور جوان ہوگی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.