19 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 19:8
راولپنڈی :کینسر سے لڑ نے والی 23سالہ زینت علاج کیلئے مدد کی منتظر
راولپنڈی…طویل سفر کے بعد منزل دکھائی دے لیکن ساتھ ہی اوجھل ہونے لگے تو سب کچھ ختم ہوتادکھائی دیتاہے۔ ایساہی راولپنڈی میں ایک گھرانے کے ساتھ ہوا۔ غریب والدین نے بیٹی کواعلیٰ تعلیم دلوائی لیکن کینسر کا مرض سب کچھ اجاڑنے پر تلا ہے۔غریب محنت کش والدین کی 23 سالہ بیٹی زینب نے وہ کردکھایا جس کا خواب اس کے والدین نے دیکھا تھا۔ ایم بی اے کیا اور عملی زندگی میں قدم بھی جمانے لگی، محنت کا پھل کھانے کا وقت آیا تو بلڈ کینسر نے آلیا اور گن گن کرقدم رکھنے والی زینب کے قدم اکھڑتے چلے گئے۔ چھوٹے بہن بھائیوں کا سہارا بننا تو دور کی بات، کینسر کا علاج نہ کرایا تو زندگی روٹھ جائے گی لیکن اس کیلئے پندرہ لاکھ روپے کہاں سے آئیں؟؟ زینت کا کہنا ہے کہ میں بیٹا بن کر دکھانا چاہتی تھی، کچھ کرنا چاہتی تھ، مگر اب میں ایسی دو راہے پر کھڑی ہوں جہاں ایک طرف پیسہ اور دوسری طرف میری زندگی ہے ،میں چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتی۔ زینت کے والدین اس پر اپنا سب کچھ وار چکے۔ اس کی حالت ان سے دیکھی نہیں جاتی۔اس کی والدہ کہتی ہیں کہ اگر چھوٹی موٹی بیماری ہوتی تو ہم علاج کرا لیتے اب اتنی بڑی بیماری، ایک طرف بیٹی کی جاتی زندگی، ہم اس کو مرتے بھی تو نہیں دیکھ سکتے، اگر اس کے علاج کے لیے بھیک بھی مانگنی پڑی تو مانگیں گے۔ زینت کے والد کہتے ہیں کہ اللہ نے مجھے ایک ہی پھول دیا تھا، اس کا علاج کروایا جائے، یہ مرجھا گیا تو میں بھی مرجھا جاوٴں گا۔ چندلاکھ روپے اس خاندان کی وہ ساری خوشیاں لوٹاسکتے ہیں جن کیلئے انہوں نے ان تھک محنت کی، بروقت علاج نہ صرف زینت بلکہ اس کے خاندان کے بکھرتے خواب سمیٹ سکتا ہے لیکن مسئلہ صرف رقم کا ہے، بے بسی اپنی جگہ لیکن اس بات پر بھی یقین ہے کہ کوئی ان کی مدد ضرور کرے گا، امید ابھی ٹوٹی نہیں۔