9 نومبر 2013
وقت اشاعت: 8:52
کراچی میں ڈینگی کی خیر نہیں، گپی، طلاپی اور مولی آگئیں
کراچی…کراچی میں ڈینگی مچھر کی خیر نہیں کیو ں کہ گپی، طلاپی اور مولی آگئی ہیں شہر میں، یہ ہیں کون؟ اور کس طرح ڈینگی وائرس کو ختم کریں گی؟ یہ صرف چھوٹی چھوٹی رنگ برنگی اور کالی مچھلیاں نہیں بلکہ قاتل ہیں ڈینگی وائرس کی۔ گپی، طلاپی اور مولی فش، ڈینگی مچھر کا لاروا کھاتی ہیں اور ڈینگی وائرس پنپنے سے پہلے ہی تہس نہس کردیتی ہیں۔ مچھر مار اسپرے مہم کے مطلوبہ نتائج نہ ملنے پرپہلے مرحلے میں 30ہزار مچھلیوں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں ڈینگی کی روک تھام کی جائے گی۔طبی ماہرین کے مطابق ڈینگی مچھرکھلے رکھے ہوئے صاف پانی سے پیدا ہوتا ہے اورعموماً سورج نکلتے اور ڈھلتے وقت حملہ کرتا ہے، اس کے خاتمے کیلئے مچھر مار ادویات استعمال کی جائیں اور غیر ضروری پانی کے ذخیرے سے گریز ضروری ہے۔ڈائریکٹر میڈیکل سروسز کے مطابق ٹائر شاپس،سوئمنگ پولز اور جن جگہوں پر پانی کا ذخیرہ کیا جاتا ہے وہاں پرگپی، طلاپی اور مولی فش کو چھوڑا جائے گا۔