23 مارچ 2014
وقت اشاعت: 22:13
خیبر پختونخوا میں ہر سال پچاس ہزار افراد ٹی بی کا شکار
پشاور…تپ دق ایک مہلک تاہم قابل علاج بیماری ہے۔ علاج میں بے قاعدگی یا کوتاہی کی گئی تو یہ مرض جان بھی لے سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ہر سال پچاس ہزار افراد اس مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ تپ دق ایک متعدی بیماری ہے۔یہ مرض مائیکوبیکٹیریم ٹیوبرکلوسس نامی جراثیم سے پھیلتا ہے۔ جب ٹی بی کامریض چھینکتا، کھانستا یا تھوکتاہے تو جراثیم ہوا میں شامل ہو کر دوسرے صحت مند شخص کے جسم میں داخل ہوتے ہیں اور پھیپھڑوں میں بسیرا کرکے پھلتے پھولتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ٹی بی کی علامات میں مسلسل کھانسی،بلغم کے ساتھ خون آنا، بخار ، وزن کم ہونا، پسینے چھوٹنا اور کمر میں درد شامل ہیں۔جن افراد کی قوت مدافعت کم ہو ان پر ٹی بی کے جراثیم جلد حملہ آور ہوتے ہیں۔ دنیا میں ٹی بی کے حوالے سے پاکستان کا چوتھا نمبرہے۔ خیبر پختونخوا ٹی بی کنٹرول پروگرام کے مطابق صوبے میں ہر سال 50 ہزار افراد اس بیماری میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ٹی بی لا علاج مرض نہیں۔ضرورت ہے حفظان صحت کے اصولوں سے متعلق شعور بیدار کر نے کی۔ خصوصاً دیہی علاقوں میں صحت وصفائی پر توجہ دی گئی تو اس مرض پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔