11 اپریل 2014
وقت اشاعت: 19:7
پشاور،جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں پچاس فیصد تک اضافہ
پشاور…روزمرہ استعمال کی اشیاء کے داموں میں روز افزوں اضافے نے عام شہریوں کی زندگی پہلے ہی اجیرن کردی تھی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں بھی پچاس فیصد تک اضافہ کردیا گیا۔ادویہ ساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں تیس سے پچاس فیصد تک اضافہ کردیا ہے ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافے کی سمری حکومت نے نومبر 2013 میں مسترد کردی تھی مگر کمپنیوں نے خود ہی اضافہ کردیا۔جان بچانے والی ادویات کے داموں میں ہوشرباء اضافے نے مہنگائی کے مارے شہریوں کی زندگی مزید اجیرن بنادی۔فارماسیو ٹیکل کمپنیوں کا موقف ہے کہ 13 سالوں سے ادویات کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں۔تاہم ادویات فروشوں کے مطابق قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے ان کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔جن ادویات کی قیمتوں میں تیس فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے ان میں امراض قلب ،شوگر ،گردوں کے امراض ،کینسر،دماغی امراض کی ادویات کے علاوہ انیٹی بائیوٹیکس اور جان بچانے والی دیگر ادویات شامل ہیں۔جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں ہو شربا اضافے نے غریب شہریوں سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا ہے حیرت انگیز امریہ ہے کہ ارباب اقتدار کی طرف سے ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کی اب تک کوئی کوشش دکھائی نہیں دے رہی۔۔