11 اپریل 2014
وقت اشاعت: 21:0
کوئٹہ، اسپتال اور صحت کے مراکز کا بیشتر فضلہ مشین تک پہنچتا ہی نہیں
کوئٹہ…کوئٹہ میں اسپتالوں سے نکلنے والے فضلے کو سائنسی بنیاد پر تلف کرنے کے لیے شہر میں ایک اِنسِنیریٹر incineratorمشین تو موجود ہے، مگر زیادہ تر فضلہ اِس مشین تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔کوئٹہ شہر اور گردونواح میں چھ سرکاری اور نجی شعبے میں چھوٹے بڑے تقریبا پچاس اسپتال ہیں ، صحت کے کئی مراکز ان کے علاوہ ہیں،ان اسپتالوں سے منوں کے حساب سے جراثیم زدہ فضلہ اور دیگر کْوڑا کرکٹ نکلتا ہے جسے تلف کرنے کیلئے کوئٹہ کے نواحی علاقے میں بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال کے زیرانتظام انسنریٹر مشین موجود ہے۔ لیکن بیشتر اسپتال اور صحت کے مراکز سے فضلہ اس مشین تک پہنچتا ہی نہیں بلکہ کوڑا دانوں یا پھر کباڑیوں تک پہنچ جاتاہے۔ کباڑی اس کی چھانٹی کرکے ان لوگوں کو فروخت کردیتے ہیں جو اسے دوبارہ استعمال کے قابل بناتے ہیں۔شہر ی نظام الدین کے مطابق لوگ ادھرآتا ہے ساتھ میں صحت کا یہ مرکز بھی ہے اور میڈیکل اسٹوروں سے لوگ کچرا لاتے ہیں،سرنجیں اور دوسری چیزیں، پھر یہ بچے آتے ہیں یہ ادھر سے اٹھا کر لے جاتے ہیں،میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بی ایم اسپتال ڈاکٹر مسعود نوشیروانی کے مطابق30 اسپتالوں سے کچرا ہماری انسنریٹر مشین پر لایاجاتاہے جسے ہم تلف کردیتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں سے نکلنے والے خطرناک جراثیم زدہ فضلے اور ناکارہ اشیا کو سائنسی بنیاد پر تلف کرنا چاہیے ،ورنہ اس سے کئی متعدی بیماریاں پھیلنے کا خطرہ رہتاہے۔سینئر فزیشن ایسوسی ایٹ پروفیسر شربت خان مندوخیل کا کہنا ہے کہ اسپتالوں سے جو ویسٹ ہوتا ہے اس سے بہت سے بیماریاں پھیلنے کا امکان ہوتاہے،ان میں ہیپاٹائٹس اے، بی سی اور ڈی ہے،اور بہت سی infectious diseases ہوتی ہیں تو hospital waste کو پراپرلی dispose off کرنا بہت ضروری ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں سے نکلنے والے خطرناک فضلے کو موثر طریقے سے ٹھکانے لگانا بیماریوں کی روک تھام کے لئے ضروری ہے،حکومت کو اس سلسلے میں زیادہ سہولتوں کی فراہمی کیساتھ اس پر نظر رکھنے کے لئے موثر نظام بھی بناناہوگا تاکہ یہ فضلہ امراض کے پھیلنے کا سبب نہ بن سکے۔