8 مئی 2014
وقت اشاعت: 9:18
تھلیسیمیا کے حوالے سے شعوراجاگرکرنے کا دن
پشاور…پاکستان میں بھی آج تھلیسیمیا کے شکاربچوں کے حوالے سے شعوراجاگرکرنے کا دن منایا جارہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں اس مرض کی روک تھام کے لئے ایک قانون بھی موجود ہے جس پرعمل نہ ہونے کی وجہ سے یہ مرض مسلسل بچوں کونگل رہا ہے۔تھلیسیمیا ایک ایسی بیماری ہے جس کے شکاربچوں کے جسم میں خون کا بننا بند ہوجاتا ہے اس لئے انہیں ہرماہ خون لگانا پڑتا ہے، اس بیماری کی سب سے بڑی وجہ خاندان کے اندرشادیاں کراتے وقت احتیاط نہ کرنا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ایسی شادیوں سے پہلے دلہا اوردلہن کے ٹیسٹ ہونے چاہئیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی نے سال 2010 میں ایک قانون بھی منظورکیا لیکن اس پرعمل نہیں ہورہا۔ عوام میں اس مرض کے بارے میں شعور کی کمی بھی اس مہلک مرض کے پھیلاوٴ کی بڑی وجہ ہے۔ اس کا علاج توموجود ہے جسے بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کہتے ہیں لیکن اس پر اٹھنے والے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ غریب کانوں کوہاتھ لگا کرواپس چلے جاتے ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق 2012 میں خیبرپختونخوا میں سرکاری اور نجی اسپتالوں میں تھلیسیمیا کے مرض میں مبتلا 6 ہزار مریضوں کو رجسٹرڈ کیا گیا جبکہ 2013 یہ تعداد بڑھ کر 8 ہزار ہوگئی۔ ان اعداد و شمارکے مطابق پاکستان تھلیسیمیا کے پھیلاؤ کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔خیبر پختونخوا میں سرکاری ریکارڈ اس بات کی خود گواہی دیتا ہے کہ خون کی کمی کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہیں لیکن یہ ریکارڈ اس بات کا بھی گواہ ہے کہ موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے اس مرض پر قابو پانے کے لیے ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔