تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
8 جولائی 2014
وقت اشاعت: 21:54

رمضان المبارک میں بسیاری خوری سے احتیاط ضروری ہے،ماہرینِ طب

فیصل آباد.......رمضان المبارک اپنی تمام تر برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ جاری ہے، گھروں میں دسترخوان سجنے کے علاوہ افطار پارٹیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے کھانے پینے کے شوقین افراد کے وارے نیارے ہوگئے ہیں۔جیسے جیسے رمضان المبارک کے روزے گزررہے ہیں،افطار پارٹیاں بھی ساتھ ساتھ جاری ہیں، چٹ پٹے اور من پسند کھانے جب افطار میں دستر خوان پر سجے ہوں تو افطار کا سائرن بجتے ہی دن بھر روزہ رکھنے والوں کا ہاتھ پھر کہاں رکتا ہے،روزہ داروں کی خواہش ہوتی ہے کہ روزے کے بعد چٹ پٹی چیزوں کو کھایا جائے ، جس کیلئے لوگ انتظام کرتے ہیں اور تھوڑی سی خرابی بھی ہوجاتی ہے۔ہر کوئی اپنی اپنی پسند کے کھانے بنواتا ہے،بڑے شوق اور مزے میں اس مہینے میں تھوڑی سی بدپرہیزی بھی کرتا ہے،افطار دستر خوان، گھر میں سجا ہو یا گھر سے باہر، پکوڑے، سموسے، دہی بھلے، فروٹ چاٹ، چنے چاٹ، مشروبات کا ذائقہ چکھتے چکھتے پھر بریانی، پلاؤ، چکن اور مٹن کورمے اور میٹھےکی باری آجاتی ہے، تھوڑا تھوڑا کرتے بھی بسیاری خوری ہو ہی جاتی ہے۔رمضان کے مہینے میں دستر خوان پورے طریقے سے تبدیل ہوتا ہے ۔سموسے پکوڑے ، کچوری یہ چیزیں ساری آپ کو رمضان میں ہی دستر خوان پر ملیں گی،زیادہ تر تو لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ چٹ پٹی چیزیں ہوں، مرغن چیزیں ہوں تاکہ منہ کا ذائقہ تھوڑا بہتر ہوجائے۔کھانوں کا لطف اور مزہ اپنی جگہ مگر ماہرین طب کہتے ہیں کہ بسیارخوری اور غذا میں بے اعتدالی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ کھانے پینے میں اعتدال اور چٹ پٹی اور مرغن غذاؤں سے پرہیز خصوصاً دل، شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کیلئے تو مرغن غذاؤں سے مکمل احتیاط ضروری ہے۔جو روٹین میں ہم کھانا کھاتے ہیں اس سے ہٹ کر چیزیں کھائی جاتی ہیں جن میں مرغن اشیاء کا استعمال زیادہ ہو جاتا ہے، چکنائی کا استعمال زیادہ ہو جاتا ہے، شوگر کا استعمال زیادہ ہو جاتا ہے جو دل اور شوگر کے مریضوں کیلئے ہی برا نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ ماہرین طب کے مطابق روزہ رکھنے سے جسم میں مدافعتی نظام کو بھی تقویت ملتی ہے مگر سحر اور افطار میں بسیاری خوری سے یہ مدافعتی قوت ضائع ہو سکتی ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.