20 دسمبر 2012
وقت اشاعت: 8:5
کشمور میں خسرہ وبائی صورت اختیار کرگیا
اے آر وائی - کشمور میں خسرہ وبائی صورت اختیار کرگیا ہے۔ ضلع کے مختلف علاقوں میں تین ہفتوں کے دوران پینتالیس بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن اب تک متاثرہ علاقوں میں کوئی طبی کمیپ نہیں لگایا گیا۔
ضلع کشمور میں سیلاب کے بعد وبائی امراض نے قبضہ جمالیا ہے جن میں خسرہ سرفہرست ہے ۔ کندھ کوٹ ، تنگوانی ، کرم پور، غوث پور اور اس کے اطراف میں تین ہفتوں میں پنتالیس بچوں کیلئے خسرہ جان لیوا مرض بن گیا ۔ جاں بحق ہونے والے ننھی کلیوں کی عمریں چار سے پانچ سال تک تھیں۔ اتنی بڑی تعداد بچوں کی ہلاکت پر سیلاب سے تباہ حال متاثرین سراپا احتجاج ہیں۔
محکمہ صحت نے علاقے میں کوئی طبی کیمپ نہیں لگایا۔ نہ ہی بچوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کی گئی ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق سردی اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث علاقے میں بیماری پھیل رہی ہے۔ ضلعی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر رانو کے مطابق خسرہ سے صرف پانچ سے چھ بچے جاں بحق ہوئے۔ تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنائی ہے جو جلد متاثرہ دیہات کا دورہ کرے گی۔