تازہ ترین سرخیاں
 شہر شہر کی خبر 
8 جنوری 2013
وقت اشاعت: 13:16

سیلاب میں غیرمعیاری ادویات خریدی گئیں،پی اے سی سندھ

اے آر وائی - پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی سندھ نے ادویات کی خریداری کے نظام پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب میں بڑے پیمانے پر غیرمعیاری ادویات خریدی گئیں۔ نوری آباد میں اسپتال بنائے بغیر ہی مشینری خرید لی گئی ۔



چیئرمین جام تماچی کی زیر صدارت پی اے سی اجلاس میں ضلعی حکومت جامشورو اور حیدرآباد کے مالی سال دو ہزار دس۔ دو ہزار گیارہ کے اخراجات کا جائزہ لیا گیا۔ پی اے سی کا کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد ہنگامی حالات کے دوران ادویات کی خریداری سمیت ساڑھے بتیس کروڑ کے اخراجات کئے گئے۔ لیکن ضلعی حکومتوں کے حکام دس کروڑ سڑسٹھ لاکھ کے درست حسابات پیش کرسکے۔



جام تماچی نے کہا کہ ادویات کی خریداری میں مانیٹرنگ نظام بنائے بغیر کروڑوں روپے افسران کو دیئے گئے، نوری آباد میں اسپتال بنائے بغیر مشینری کی خریداری پر پی اے سی نے حیرت کا اظہار کیا۔ ضلعی حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ سیلاب متاثرہ افراد کے علاج معالجے کیلئے لاکھوں روپے مالیت کی ادویات ادھار پر خریدی گئیں تاہم آڈٹ حکام نے جعلسازی قرار دیتے ہوسے یہ بات ماننے سے انکار کردیا۔



ضلعی حکام کا کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد بیس سے زائد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ریلیف کیمپوں کا دورہ کررہے تھے جعلسازی ممکن نہیں تاہم آڈٹ اور پی اے سی حکام کا کہنا تھا کہ ادویات کی خریداری میں زیادہ گھپلے ہوتے ہیں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.