23 جنوری 2013
وقت اشاعت: 13:52
سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس
اے آر وائی - سندھ اسمبلی کی پبلک ا کاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گورنرہاؤس، وزیر اعلٰی ہاؤس، وزرا، ارکان اسمبلی نے کراچی واٹر ایند سیوریج بورڈ کے دو کروڑ23 لاکھ روپے ادا نہیں کئے، ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے اعتراف کیا ہے کہ پارکس اور زمینوں پر قبضے ہورہے ہیں۔ ۔
سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جام تماچی انٹر کی صدارت میں ہوا۔ جس میں کے ایم سی اور واٹر بورڈ کے سال 2010 ، 2011 کے آڈٹ کا جائزہ لیا گیا۔ واٹر بورڈ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ گورنر ہاوس ، وزیراعلی ہاوس، اے ایس ایف ، وزرا ارکین اسمبلی رینجرز پر 2 کروڑ 23 لاکھ کے واجبات ہیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا کہ سرکاری واجبات برسوں ادا نہیں کیے جاتے یہ افسوسناک عمل ہے اور ہدایت کی کہ وزار اور اراکین اسمبلی آج کل کمزور ہیں ان سے پہلے پیسے وصول کیے جائیں ۔ واٹر بورڈ حکام کا کہنا تھا کہ بڑے فورم ہیں ان پر دباو ڈالیں گے تو ہم کرسیوں پر نہیں رہیں گے ۔ واٹر بورڈ کی ملازمت مشکل ہے افسران بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں مبتلا ہیں ۔
کے ایم سی کے اکاکؤنٹس پر غور کے دوران ایڈ منسٹریٹر محمد حسین سید نے اعتراف کیا کہ کہ پارکس اور زمینوں پر قبضے ہورہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بلدیہ ٹاؤن کے علاقے اتحاد ٹاؤن میں کاٹیج انڈسٹری پر مکمل طور پر قبضہ ہوچکا ہے وہاں قبضہ ختم کرانے گئے تو طالبان ٹائپ لوگوں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ زمینوں پر قبضے کے خلاف پولیس رینجرز ڈپٹی کمشنر، کمشنر سب سے رابطے کیے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ محمد حسین سید نے کہا کہ وہ لاٹھی لے کر قبضے ختم نہیں کراسکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سٹی گورنمنٹ کی جانب سے تیرہ لاکھ کی گاڑی قواعد کے خلاف خریدنے پر وارننگ دی کہ آئندہ ایسی بے ضابطگی نہ ہو۔ اجلاس میں قمبر شہداد کوٹ کے ڈپٹی کمشنر کے پیش نہ ہونے پر پی اے سی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کو ڈی سی قمبر شہداد کوٹ کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔