31 جنوری 2013
وقت اشاعت: 14:18
کراچی میں بد امنی کی لہر جاری،15 افراد جاں بحق
اے آر وائی - کراچی میں بد امنی کی لہر بدستور جاری ہے۔ ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کے تازہ واقعات میں مزید پندرہ افراد جان کی بازی ہارگئے۔ تین بوری بند لاشیں ملی ہیں۔
شہر قائد میں امن خواب بن کر رہ گیا، بوری بند لاشیں ملنے اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ رک نہ سکا، شارع فیصل پر نرسری پُل کے قریب موٹر سائیکل سواروں نے ہائی روف وین پر فائرنگ کی جس کےنتیجےمیں جامعہ بنوریہ ٹاؤن کے صدر مفتی عبدالمجید دیگر ساتھیوں مفتی صالح اور حسان علی شاہ سمیت جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پولیس نے جائے وقوع کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی۔
واقعے کے بعد پٹیل پاڑہ ،گرومندر سمیت مختلف علاقوں میں کشدگی پھیل گئی، نامعلوم افراد نے کاروبار اور دکانیں بند کرادیں۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے علماء اور دیگر افراد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
سرجانی نادرن بائی پاس سے دو لاشیں ملیں جنہیں فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ چیل چوک کے قریب سے بھی لاش ملی، سکھن کے علاقے میں بھی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔ بلدیہ ٹاون قائم خانی کالونی سے بوری بندتین لاشیں ملیں جن کی شناخت عرفان ، امجد اور جمیل کے ناموں سے ہوئی، مقتولین کو مومن آباد سے اغواء کے بعد فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔
پاک کالونی، پرانی سبزی منڈی اور نیپئر تھانے کی حدود ٹمبر مارکیٹ سے بھی تین افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملیں۔ لانڈھی حبیب گراونڈ کے پاس مزاحمت پر فائرنگ سے دانش جاں بحق ہوا۔