14 فروری 2013
وقت اشاعت: 13:34
آرٹس کونسل میں افسانہ نگار انتظار حسین کے فن اور شخصیت پر تقریب
جیو نیوز - کراچی…اختر علی اختر…ممتاز ناول نگار، افسانہ نگار اور دانشورانتظار حسین تاریخ کے معا ملے میں کبھی جذبا تی نہیں ہو ئے، ان کے یہاں کہانی اور زندگی ساتھ ساتھ چلتی ہے، وہ ایک ایسے ادیب ہیں جن کا شمار دنیا کے دس اہم لکھنے والوں میں کیا جاتا ہے، کئی برس کے یہ تحریرکار اپنی شخصیت اور فن کے لحاظ سے ایک منفرد اور جداگانہ حیثیت کے مالک ہیں۔ ان خیالات کا اظہاربھارت سے تشریف لائے ہوئے ممتاز شاعر، محقق اور دانشورڈاکٹر شمیم حنفی نے آرٹس کونسل کراچی کی جانب سے اردو کے ر حجان ساز افسانہ نگار اور ناول نویس انتظار حسین کے فن اور شخصیت کے حوالے سے خصوصی لیکچر بعنوان ”بے مثال ادیب انتظار حسین“ دیتے ہو ئے کیا۔ اپنے خصوصی لیکچر میں شمیم حنفی نے کہا کہ انتظار حسین نے اپنے بارے میں بے شمار غلط فہمیوں پھیلائی رکھی ہیں، وہ خود کو غیر سیاسی کہتے ہیں جبکہ وہ سیاسی شخصیت ہیں، ان کا ارتقاء ابھی تک جاری ہے، ان کے فکشن کا مزاج جمہوری ہے، انتظار حسین سے میری پہلی ملاقات دہلی میں1976ء میں ہو ئی تھی جب سے میں انہیں پڑ ھ بھی رہا ہوں اور ان پر لکھ بھی رہا ہوں، مجھے ان کی کہا نیاں اپنی آب بیتی معلوم ہو تی ہیں، ان کی تحریر ہر دور اور ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ہوتی ہے، ان کا خاصا یہی ہے کہ حقیقت کو اپنی تحریروں میں اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ہر پڑھنے والے کوقائل کر کے اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے اور انہیں وہ کہانی اپنی آپ بیتی معلوم ہو نے لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظار حسین نے اپنی تلاش ختم نہیں کی، انتظار حسین کی زبان تلاش کا حصہ ہے، انہوں نے افسانوں، ناولوں ، ڈراموں ،کتابوں اور سفر ناموں میں جو کچھ لکھا ہے وہ آئندہ آنے والی نسلوں کی یادوں کو بازیاب کرانے کی کوشش کی ہے ،انہوں نے تاریخ کو اپنے فکشن کی اساس بنایا ہے ،اردو فکشن کے تین اہم دور رہے ہیں جس میں پہلا دور منشی پریم چند، دوسراسعادت حسن منٹو اور تیسرا انتظار حسین اور قراة العین حیدر کا ہے ،لیکن انتظار حسین کے یہاں جو تازگی اور احساس پایا جا تا ہے وہ صرف انہی کی تحریر کا ٰخاصا ہے، ان کے یہاں افسردہ تحیر ملتا ہے جس سے کبھی ہم بھی دو چار ہو جا تے ہیں،انتظار حسین نے اپنی تلاش ختم نہیں ہو نے دی، انہوں نے اپنی تلاش کے لیے نئے راستے دریافت کیے ہیں، ان کے افسانوں میں سیاسی جہت ابتداء سے ہی موجود ہے ،ان کی کہانیاں معاشرے کے ہر پہلو اور طبقے کی نمائندگی کرتی ہے جو اپنی کہانیوں میں ماضی، حال اور مستقبل کو ساتھ لے کر چلتے ہیں،انتظار حسین فکشن کے نقاد بھی ہیں، انہوں نے جس انداز میں مختلف موضوعات پر تنقید کی ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ آنے والے دنوں کی سچائیوں کی آہٹ محسوس کرنے کے فن سے بخوبی واقف ہیں۔ انتظار حسین نے کہا کہ شمیم حنفی نے میری کہانیوں اور افسانوں میں ایسی ایسی خو بیاں نکال دیں جن سے میں خود بھی لا علم تھا، میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ آرٹس کونسل کراچی نے میرے لئے اس لیکچر کا اہتمام کیا ہے جس کے لیے میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کا شکر گزار ہوں۔ محمد احمد شاہ نے کہا کہ یہ بات ہمارے لیے باعث اعزاز ہے کہ انتظار حسین کو دنیا کے دس اہم لکھنے والوں میں شامل کر لیا گیا ہے انہوں نے انتظار حسین کو انٹرنیشنل بکرز ایوارڈ ملنے پر اہلیان کراچی کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کی۔پروگرام کی کمپےئرنگ کے فرائض ڈاکٹر آصف فرخی نے انجام دیے۔