13 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 12:42
سپریم کورٹ میں شاہ زیب قتل کیس میں راضی نامے کی بازگشت
جیو نیوز - اسلام آباد… شاہ زیب قتل کیس میں راضی نامے کی بازگشت، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل، چاروں صوبوں کے پراسیکیوٹر جنرل کو نوٹسز جاری کر تے ہوئے راضی نامے کے معاملے پر مشترکہ قانونی معروضات پیش کرنے کا حکم دیاہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ سمجھوتے پر آنکھیں بند کر کے ا عتماد نہ کریں۔شاہ زیب قتل کیس میں شاہ زیب کے والدین نے شاہ رخ جتوئی سمیت دیگرملزمان کو قصاص اوردیت کے قانون کے تحت فی سبیل اللہ معافی دے دی ، بظاہر قصہ تمام ہوالیکن ایسا نہیں ، کیس جاری ہے۔ کیونکہ ملک بھرکی نظریں اس کیس پرجمی رہیں اور اس کے انجام نے کئی سوالات کوجنم دیا۔ سپریم کورٹ نے فی سبیل اللہ معافی کے معاملے کوزیربحث لانے کافیصلہ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل، چاروں صوبوں کے پراسیکیوٹر جنرلز کو نوٹسز جاری کردیے ہیں ، انہیں راضی نامے کے معاملے پر مشترکہ قانونی معروضات پیش کرنے کا حکم دیاہے۔ منڈی بہاوالدین میں قتل کے بعدصلح کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دیے ہیں کہ قتل کے کیس میں کہا جاتا ہے کہ فی سبیل اللہ معافی دے دی گئی مگر ایسا ہوتا نہیں،کیا یہ طریقہ کار جرم ہے یا معاشرے میں بہتری کا کوئی ذریعہ ،یہی لوگ قتل کرتے ہیں اور پھر فی سبیل اللہ معافی کے نام پر چھوٹ جاتے ہیں۔عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ سمجھوتے پر آنکھیں بند کر کے ا عتماد نہ کریں ، خاص طور پر ایسی صورت حال میں کہ جب معاملہ فساد فی الارض کا ہو،اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے۔بہت سارے سوالات ہیں جنہیں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ فی سبیل اللہ معافی دینا بڑا کام ہے مگر اس نام پر غلط استعمال کیا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ اسلامی تعلیمات کا غلط استعمال ہو تو اللہ کاعذاب بھی آتا ہے، عدالت معاملے پر بھرپور فیصلہ دے گی۔