تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
14 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 8:15

غیرقانونی اور غیرتصدیق شدہ سمز کی تعدادتقریباً45 سے 50 لاکھ

جیو نیوز - اسلام آباد…ملک بھر میں غیرقانونی اور غیرتصدیق شدہ سمز کی تعدادتقریباً45 سے 50 لاکھ تک بتائی جاتی ہے ، لیکن بعض سرکاری حکام خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تعداد ایک کروڑ سے بھی زائد ہے۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق ملک میں موبائل فون سمز کی تعداد 12 کروڑ ہے اور ان میں غیرقانونی اور غیرتصدیق شدہ سمز کی تعداد تقریباً 45 سے 50 لاکھ ہے لیکن کیا باقی تمام سمز قانونی اور مصدقہ ہیں تو پی ٹی اے حکام کہتے ہیں کہ ایسا کوئی سسٹم یا ریکارڈ نہیں جس سے یہ سب چیک ہو سکے۔ اسی وجہ سے بعض سرکاری حکام یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ غیر قانونی اور غیر مصدقہ سمز کی تعداد ایک کروڑ سے بھی زائد ہو سکتی ہے ۔ سیکیورٹی اورانٹیلے جنس اداروں کی رپورٹ کے مطابق یہی غیرقانونی سمز دہشت گردی سمیت دیگر جرائم میں استعمال ہورہی ہیں۔دہشت گردی کے شکار پاکستان میں 2008 سے پہلے تو حالت یہ تھی کہ ٹھیلوں ، دکانوں ، پان شاپس اور فٹ پاتھوں پر بھی سمز فروخت کی جاتی تھیں،کون کتنی لے گیا کوئی حساب ہی نہیں۔2008 میں کچھ ہوش آیا تو قانون بن گیا کہ اصلی شناختی کارڈ کے بغیر سم نہیں ملے گی اور صارف اسے تبھی ایکٹو کرا سکے گا جب وہ نادرا کو دیے گئے اپنے ڈیٹا کے مطابق کچھ خفیہ سوالات کے جواب دے گا۔اس قانون پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں ، اسے چیک کرنے کا نظام ہی موجود نہیں۔ ذمہ دار کون ہے ؟ وزارت آئی ٹی، پی ٹی اے ، نادرا یا ٹیلے کام کمپنیز خود؟ ٹیلے کام قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا تو وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کی ذمہ داری ہے لیکن پی ٹی اے کا اپنا حال یہ ہے کہ اس کا کئی ماہ سے چیئرمین ہے نہ اتھارٹی کے ممبرز اور کئی شعبوں کے ڈائریکٹر جنرلز۔ نادرا کے کردار بھی کئی سوالیہ نشان ہیں ، سرکاری حکام کے مطابق اس محکمے میں کئی ایسی کالی بھیڑیں ہیں جو سم ایکٹو کرانے کے لیے چند ٹکوں کی خاطر کسی کا ڈیٹا کسی اور کو دے دیتی ہیں تا کہ وہ خفیہ سولاات کے جواب دے سکے۔ ایک اور سوالیہ نشان یہ ہے کہ سم حاصل کرنے کے لیے پیش کردہ شناختی کارڈ بھی اصلی ہے یا جعلی؟موبائل فون کمپنیز سمز کی تصدیق کی مد میں نادرا کو ماہانہ لاکھوں روپے تو دیتی ہیں لیکن اپنا ایسا کوئی نظام نہیں بنا پائیں کہ غیر قانونی اور غیر تصدیق شدہ سمز بند کر سکیں۔ پی ٹی اے کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ دو سال میں نادرا کی مدد سے لاکھوں غیر قانونی سمز بند جب کہ غیر تصدیق شدہ سمز کی تصدیق کی گئی ہے اور یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ تاہم انہوں نے تصدیقی عمل کی ذمہ داری صارفین پر بھی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے شناختی کارڈ پر جاری سمز کی تعداد یا تصدیق کے لیے 668 پر میسیج کریں اور ریکارڈ درست کرا لیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ جرائم پیشہ افراد آخر ایسا کیوں کریں گے اور غیر قانونی سمز کا مکمل خاتمہ کیسے ہو پائے گا؟

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.