تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
18 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 7:27

سپریم کورٹ کا بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر اظہار عدم اطمینان

جیو نیوز - کوئٹہ…سپریم کورٹ نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ بے ایمانی کی حد ہے، یہاں کام کرنے کو کوئی تیار نہیں ، جرائم کے خاتمے کیلئے قبائلی عمائدین سے تعاون لیں۔ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں بلوچستان امن و امان کیس کی 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے پولیس حکام سے کہا کہ آپ کو قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔سپریم کورٹ نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہا کیا۔ سی سی پی اوکوئٹہ نے بتایا کہ بلوچستان میں اس سال اغوابرائے تاوان کے 19کیسز ہوئے، 90 فیصد گروہوں کا خاتمہ کردیا، صرف ایک گینگ رہ گیا ہے۔ سینئر وکیل ایاز ظہور نے عدالت کو بتایا کہ پشین اسٹاپ سے ڈاکٹر کو اغواء کیا گیا اور سارے دیکھتے رہ گئے۔ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے سی سی پی او سے استفسار کیا کہ ڈاکٹر مناف کو اغوا کیا گیا، کیا پیش رفت ہوئی؟ ان کے اغوا میں کون سے عناصر ملوث ہیں؟ جس پر سی سی پی او کوئٹہ نے عدالت کو بتایا کہ ہم عوام کی حفاظت کیلئے کوشاں ہیں، ڈاکٹرمناف ترین کی بازیابی کیلئے شہرکی ناکا بندی کردی ہے، واقعے کے بعد ایس پی بشیر بروہی ناکا لگارہے تھے، ملزمان نے فائرنگ کردی۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ اگر آپ کو کام کرنا ہے تو آپ کو مکمل طریقے سے کرنا ہوگا، رات کو ڈاکٹر اغواء ہوا تھا تو آپ نہ سوتے اور اسے لے کر آتے۔ جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ سابق چیف سیکریٹری کے دور میں چینی اغواء ہوئے، چیف سیکریٹری 3دن بعد چینی شہریوں کو خود لے کر آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہگاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ کے چلائی جاتی ہیں، لوگ اسلحہ بارڈر سے لیکر آتے ہیں اور پھر دوبارہ وہیں چلے جاتے ہیں، بلوچستان میں کتنا اسلحہ آتا ہے، اسمگلنگ ہوتی ہے، اس کی فہرست بنائیں، ہمارے لیے ہر شخص کی اہمیت ہے۔ سیکریٹری داخلہ بلوچستان نے کہا کہ ہم نے خصوصی ناکہ جات اور چیکنگ سسٹم تیار کیاہے جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سیکریٹری داخلہ سیکہا کہ آپ کوپالیسی دینی ہے، لیاقت بازار اور سیٹلائٹ ٹاوٴن جائیں، دیکھیں کیا حال ہوگیا ہے، چمن کے باب دوستی سرحد پر بیٹھ کر دیکھیں، کیسے کام ہورہا ہے، پولیس، ایف سی اور کسٹم سب جگہ پر پیسا چل رہا ہے، سب نے آنکھیں بند کی ہوئی ہی، ماضی میں ایک پولیس افسر سارے علاقے کو کنٹرول کرتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جرائم کے خاتمے کیلئے قبائلی عمائدین سے تعاون لیں، تاہم قبائلی عمائدین کی شناخت ظاہر نہ ہو، عام آدمی کی طرح پشتون آباد، سریاب، قمبرانی اور سمنگلی جائیں، بے ایمانی کی حد ہے، یہاں کام کرنے کو کوئی تیار نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی میں مصروف ہے، ہماری کوشش ہے یہاں حالات مقامی سطح پرحل ہوجائیں، یہاں کسی چیز کا ریکارڈ نہیں، حکومت کی رٹ کہاں ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.