19 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 17:16
دیگر معاملات میں نہ الجھائیں،جاننا چاہتے ہیں اسلحہ کیسے آتا ہے،چیف جسٹس
جیو نیوز - کراچی…کراچی بے امنی عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اسمگلنگ کے کیسز پکڑے جانے سے متعلق استفسار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت، اسرائیل، امریکا اور نیٹو کا اسلحہ شہر میں آرہا ہے۔ قیام امن سے متعلق وفاقی حکومت کی رپورٹ لارجر بینچ نے پڑھ کر سیل کردی ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ کی امن وامان سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ چیف جسٹس نے حکومتی اقدمات کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ، کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ گواہوں کے تحفظ کا قانون گزشتہ روز سندھ اسمبلی سے منظورکرلیا گیا اور رینجرز کو کراچی کے ہر ضلع میں ایک تھانہ دے دیا گیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ اسمبلی پہلی اسمبلی ہے جس نے گواہوں کے تحفظ کا بل منظور کیا، اس کا یہ کام قابل ستائش ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع ہونے کے بعد تمام جرائم میں کمی آئی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپریشن کے بعد اثرات کو مستقل رکھنے کیلئے کیا کرررہے ہیں؟ تفتیش صحیح سمت میں اور شفاف ہونی چاہئے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تیزی سے ٹرائل کریں، مزید عدالتوں کی ضروت پڑی تو وہ بھی دے دیں گے، جب تک غیر قانونی راستے بند نہیں کریں گے یہ اسلحہ آتا رہے گا، داخلی اور خارجی راستوں پر گاڑیوں کو چیک کرنے کیلئے کوئی ا سکینر موجود نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ غیر قانونی اسلحے کی درآمدی کیلئے مہم کیوں شروع نہیں کی گئی، ملک کو بچانا ہے تو یہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ چیف کلٹر کسٹم نے بتایا کہ غیر قانونی اسلحہ خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور شمالی علاقہ جات سے آرہا ہے، بندر گاہ سے غیر قانونی اسلحہ نہیں آرہا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بتاتے ہیں کیسے غیر قانونی اسلحہ آرہا ہے، سارا اسلحہ اور منشیات لانچوں سے لایا جارہا ہے، غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کیلئے کرفیو بھی لگایا جاسکتاہے، جس دن ہم نے تہیہ کرلیا یہاں ایک بھی گولی نہیں آئے گی، کتنی تشویش ناک بات ہے کہ شہر کی دکانوں سے لانچر اور اینٹی ایئر کرافٹ گنیں مل رہی ہیں، اسرائیل، بھارت، نیٹو اور امریکا کا اسلحہ آرہا ہے، کتنے اسمگلنگ کے کیس آپ نے پکڑے؟ جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ اسلحہ کرائے پر مل رہا ہے، ہمارے زمانے میں تو سائیکل کرائے پر ملتی تھی۔ سپریم کورٹ نے ایک رکنی کمیشن کی رپورٹ پبلک کردی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو چاہے کمیشن کی رپورٹ حاصل کرسکتا ہے اور اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور ڈی جی رینجرز کمیشن کی کاپیاں حاصل کرکے جواب داخل کریں جبکہ کسٹمز کلکٹر، پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی اور کوسٹ گارڈ کی مشترکہ رپورٹ پر عدالت نے اظہار برہمی کیا کہ رپورٹ میں سمندر کے راستے اسلحہ آنے کے خطرات زمینی حقائق پر مبنی ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ اگر سیکورٹی آوٴٹ سورس کردی گئی ہے تو بتا دیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس انداز میں مشترکہ رپورٹ پیش کی گئی وہ مناسب نہیں ہے اور اس رپورٹ کو عدالت میں پرائیوٹ وکیل کے بجائے اٹارنی جنرل کے ذریعے آنا چاہیے تھا۔ میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کے وکیل نے عدالت میں بیان دیا کہ گہرے سمندر کی حفاظت یوایس میرین کے ذریعے کی جاتی ہے، جس پر ڈی جی میری ٹائم نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ سمندری حدود کی حفاظت کے لیے امریکی قیادت میں مشترکہ نظام کام کررہا ہے۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کراچی میں اسلحہ کیسے آتا ہے، دیگر معاملات میں نہ الجھائیں۔ چیف جسٹس نے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سیکورٹی حساس معاملہ ہے کچھ بھی لکھ کر آجاتے ہیں مذاق بنا رکھا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھاکہ آپ کی پیش کی گئی رپورٹ کا صاف مطلب ہے سمندر کے راستے اسلحہ نہیں آتا۔