20 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 20:39
عدلیہ تحریک میں جو شریک سفربھی نہیں تھے، وہ خراج مانگنے آگئے،جسٹس مشیر
جیو نیوز - حیدرآباد…سپریم کورٹ کے جج جسٹس مشیرعالم نے کہا ہے کہ عدلیہ پراعتراض کیاجاتا ہے کہ وہ فیصلے نہیں کرتی۔ جبکہ جج اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کرفیصلے کرتے ہیں لیکن فیصلوں پر حکومت عمل نہیں کرتی۔حیدرآباد میں عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ کراچی میں کسی گھر سے بے گناہ کی لاش اٹھتی ہے تو خوشی نہیں ہوتی۔ لاشیں اٹھا اٹھاکر اور فیصلے کرتے کرتے کندھے تھک گئے ہیں۔ججز جان ہتھیلی پر رکھ کرفیصلے کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جج خدا کا نائب ہوتا ہے۔ اس کا کردار مضبوط ہو اور وہ سچ کو تلاش کرے۔ عدالتوں میں آسامیاں ضرور ہیں، پر عدالتوں کو افراد سے نہ بھرا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ عدلیہ کی تحریک میں شریک سفربھی نہیں تھے، وہ خراج مانگنے آگئے۔مقتدر لوگ بلند قدوں کے ساتھ کہتے تھے اس کرسی پر ہم نے آپ کو بٹھایا ہے، ہماری ضمانت بھی ہونی چاہئے اور اسٹے بھی ملنا چاہئے، لیکن سول ججز اور ماتحت عدالتوں کے ججز نے ان تمام دباوٴ کو برداشت کیا۔جسٹس مشیر عالم کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے سندھ میں لوگوں کی توجہ دلائی کہ یہاں کچھ رسومات دورِ جہالت کی ہیں جو دین سے مطابقت نہیں رکھتیں، لیکن وہ لوگ جو عورت کی بے حرمتی کو شان سمجھتے ہیں، انہیں تکلیف ہوئی کہ جسٹس مشیر عالم نے عورت کی حرمت اور کاروکاری پر بات کیوں کی۔ سچ بولنے پر کوئی پابندی نہیں اگرجج بھی سچ نہیں بولیں گے تو پھر کون بولے گا۔