24 ستمبر 2013
وقت اشاعت: 9:17
غیرقانونی سم کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی جائے،پشاور ہائی کورٹ
جیو نیوز - پشاور…پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ غیرقانونی سم کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے، عدالت کو مجبور نہ کیا جائے کہ سیلولر کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کریں،ملک میں تباہی مچی ہے، اورکمپنیاں ڈالرز کے پیچھے بھاگ رہی ہیں۔پشاور ہائی کورٹ میں غیر قانونی سمز اور اس کی فروخت کے حوالے سے سماعت کے دوران جسٹس دوست محمد نے کہا سمیں آلو کی طرح فروخت ہورہی ہیں، ایک آدمی کے پاس 52 سم ہیں ، صرف خیبرپختونخوا میں 10 لاکھ افغان سم استعمال کی جارہی ہیں۔ڈی جی پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے عدالت کو بتایاغیرقانونی سمز سے متعلق نادرا سے بات چیت چل رہی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا نادرا خود برباد ہورہا ہے،غیرقانونی سم کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی جائے، مجبور نہ کریں کہ سیلولر کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کریں۔