تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
24 اپریل 2014
وقت اشاعت: 20:0

مجھے یا خاندان کے افراد کو نقصان پہنچا تو ذمے دار ریاستی عناصر اور حکومت ہوگی:حامد میر

جیو نیوز - کراچی…جیو نیوز کے سینئر اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ مجھے یا خاندان کے افراد کو نقصان پہنچا تو ذمے دار ریاستی عناصر اور حکومت ہوگی۔قاتلانہ حملے کے بعد حامد میر نے ہوش میں آنے کے بعد پہلا باضابطہ بیان جاری کردیا۔ حامد میر کے بھائی عامر میر نے حامد میر کا بیان صحافیوں کو پڑھ کر سنایا ہے۔ جس میں حامد میر کا کہنا ہے کہ اللہ کاکرم اور قوم کی دعاوٴں کا صلہ ہے کہ مجھے ایک نئی زندگی ملی، حملے سے پہلے خود کو درپیش خطرات سے جیو انتظامیہ، خاندان کے افراد اور قریبی دوستوں کو آگاہ کیا تھا، ان عناصر کی بھی نشاندہی کی تھی جن سے خطرہ تھا جس کا ذکر عامر میر نے حملے کے بعد بیان میں کیا، عامر میر کے علاوہ کچھ ساتھیوں کو کہا تھا کہ مجھے کچھ ہوا تو کون ذمے دار ہوگا۔حامد میر نے بیان میں مزید کہا ہے کہ مجھے ریاستی اور غیر ریاستی دونوں عناصرکی جانب سے دھمکیوں کا سامنا تھا، ماضی قریب میں کچھ واقعات ہوئے جس کے بعد رفقا کو ایسے عناصر سے آگاہ کر دیا تھا، ایسے عناصر کے بارے میں بتایا تھا جو مجھے قتل کرنے کی سازش میں شریک ہوسکتے تھے۔ حامدمیر نے مزید کہا ہے کہ کچھ دن پہلے ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے افراد گھر آئے اور کہا کہ میرا نام ایک ہٹ لسٹ میں دیگر صحافیوں کے ساتھ ہے، میرے اصرار کے باوجود انہوں نے ہٹ لسٹ بنانے والوں کی تفصیل دینے سے انکار کیا، اس ملاقات کے بعد متعلقہ ادارے کو بتا دیا تھا کہ ریاستی و غیر ریاستی عناصر دھمکیاں دے رہے تھے، گھر آنے والے انٹیلی جنس اہلکاروں کو بتایا تھا کہ موجودہ حالات میں آئی ایس آئی سے خطرہ محسوس کرتا ہوں، انٹیلی جنس اہلکاروں کو یہ بھی کہا تھا کہ یہ بات وہ اپنے افسران کو بھی بتادیں۔ حامدمیر کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ماما قدیر بلوچ کے لانگ مارچ پر نشر ہونے والے کیپیٹل ٹاک کی وجہ سے مجھ سے ناراض ہے، سیاست میں خفیہ اداروں کے کردار پر تنقید سے بھی آئی ایس آئی کی ناراضی سے آگاہ ہوں، میری جان کو لاحق خطرات سے حکام کو اطلاع تھی تو مجھے تحریری طور پر کیوں نہیں دی گئی۔ حامد میر کا مزید کہنا ہے کہ 17نومبر 2012ء میں جن عناصر نے میری گاڑی کے نیچے بم لگایا تھا ان کو بے نقاب کیوں نہیں کیا جاسکا حالانکہ میری گاڑی میں بم لگانے کی ذمے دارے اس وقت تحریک طالبان نے قبول کی تھی، اس سے پہلے بھی جن عناصر نے دھمکیاں دیں ان کے فون نمبر اسلام آباد پولیس کو دیدیے تھے، لیکن اسلام آباد پولیس نے ان پر ہاتھ ڈالنے سے معذوری کیوں ظاہرکر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں میرے بچوں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف پولیس رپورٹ کے باجود کارروائی نہیں کی گئی، وقت آنے پر ان تمام واقعات کے پس منظر اور مزید تفصیلات کو بھی سامنے لاوٴں گا، میری زندگی اللہ کی امانت ہے اور خود کو اللہ تعالیٰ کے سامنے ہی جوابدہ سمجھتا ہوں، میری وہی لڑائی ہے جو میرے والد پروفیسر وارث میر نے لڑی، یہ لڑائی پاکستان کی بقا، مضبوطی اور سالمیت کی لڑائی ہے، یہ لڑائی جمہوریت کے استحکام، دہشت گردی کے خاتمے، قانون کی بالادستی کی ہے، آزادی اظہار کے تحفظ، چھوٹے صوبوں کے حقوق اور غریبوں کی آواز بننے کی جنگ ہے جسے دبایا نہیں جا سکتا، اس لڑائی میں عوام، میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ چلتارہوں گا، آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک عوام کے حقوق کی جنگ جاری رکھوں گا، پاکستان کا کوئی فرد یا ادارہ آئین اور قانون سے بالاتر نہیں، فوج کی قربانیوں کی قدر اپنے جسم پر گولیاں کھانے والا شخص ایک عام آدمی سے بہتر جانتا ہے، اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ سیاست میں فوج کے غیرآئینی کردار پر خاموشی اختیار کرلی جائے۔ حامد میر نے جیو کی نشریات زبردستی بند کرانے کی حکومت و ریاستی اداروں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جیو نے جنرل مشرف کے آمرانہ دور میں بھی ایسی کارروائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، عامر میر اور خاندان کے دیگر افراد کی سیکیورٹی پر اب شدید خطرات لاحق ہیں، اگر کسی کو کوئی نقصان پہنچا تو ذمے داری ریاستی عناصر اور حکومت وقت پر عائد ہوگی۔ حامدمیر کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نئی زندگی دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ مارنے والوں سے بچانے والا بہت بڑا ہے۔ بیان کے آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کی مکمل اور جلد صحت یابی کی دعا کریں۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.