26 اپریل 2014
وقت اشاعت: 2:50
قتل عام نہ روکا گیا توکراچی میں امن کی ضمانت نہیں دے سکتے،مجلس وحدت
جیو نیوز - کراچی …اگر ملت جعفریہ کے نوجوانوں کا قتل عام نا روکا گیا تو شہر کراچی میں امن کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے ، کراچی ٹارگٹ کلنگ میں شہیدہونے والے شیعہ عمائدین کے ورثاء کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ملت جعفریہ کی نسل کشی کے خلاف آزاد عدلیہ سمیت محب و طن سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔کراچی کی عوام خود کو اپنے ہی شہر میں غیر محفوظ سمجھتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار مجلس و حدت مسلمین کے رہنماء علامہ مختار امامی ،عبد اللہ مطہری ،علامہ حسن ہاشمی، مولانا منور نقوی،علامہ مبشر حسن ، علامہ عالم کر بلائی ،علامہ حیدر زیدی ،انجینئررضا نقوی ،علامہ مدثر حسین ،آصف صفوی سمیت دیگر نے شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے خطاب میں احتجاجی مظاہرے بعد از نماز جمعہ ر ،جامعہ مسجد مصطفی عباس ٹاؤن ،جامعہ مسجد دربار حسینی ملیر ،جامعہ مسجد ابو الفضل عباس لانڈھی ،جامعہ مسجد نور ایمان نا ظم آباد،جامعہ مسجد حسینی پہلوان گوٹھ ،جامعہ مسجد بوتراب عزید آباد،جامع مسجد کھارادرجامعہ مسجد ناصران شاہ فیصل کالونی سمیت دیگر جامع مساجدمیں جمعہ اجتماعات کئے گئے۔ مظاہرین سے خطاب میں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے ، کراچی گزشتہ 2ماہ میں ۷۰ افراد کو دہشتگری کا نشانہ بنایا گیا مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردی میں ملوث کسی دہشتگرد کو گرفتار نہیں کیا، قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کو روکنے کے بجائے نہتے شہریوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کر رہے ہیں اور بے گناہ شیعہ افراد کو ٹارگٹ کلر بنا کر گرفتار کر رہے ہیں جس کی ہم پر مذمت کرتے ہیں۔دریں اثنا مجلس و حدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کراچی گزری میں نجی شیعہ اسکول کی بس پر ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اب عبادت گاہوں کے باہر بھی نماز یوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے یہ بات واضح ہے کہ یہ کالعدم گروہوں استعماری ایجنٹ ہیں جو اسلام کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ علامہ امین شہیدی نے گزری دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو تعزیت پیش کی اور زخمی ہونے والے افراد کی جلد صیحتیابی کے لئے خصوصی دعا کی ۔