9 جون 2014
وقت اشاعت: 19:37
جیو کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کو یکجا کرنے کے کیس کی سماعت
جیو نیوز - اسلام آباد......جیو کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواست میں جیو کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی ہےکہ سپریم کورٹ کسی ہائی کورٹ کو ہدایت کرے کہ جیو کے خلاف سارے کیسز ایک ساتھ سنے جائیں ۔عدالت نے چاروں ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کر دیئے۔سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جیو کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواست کی سماعت کی،جیو کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ان کا کیس عوامی اہمیت کا حامل ہے۔جیو کےخلاف ملک بھر میں 38 سے 39 کے قریب ایف آئی آر درج ہوئیں۔ ان کا کیس براڈ کاسٹ سے متعلق ہے یہ معاملہ آزادی صحافت کا معاملہ ہے۔ سات ہزار ملازمین کی زندگیاں خطرے میں ہیں، کچھ پر حملے بھی ہوئے،اگر سپریم کورٹ ایف آئی آر کو یکجا کرنے سے متعلق اپنا دائرہ اختیار استعمال نہیں کرتی تو کوئی اور عدالت موجود نہیں ہے۔ آپ کسی ہائی کورٹ کو ہدایت کر دیں کہ وہ ایسے سارے کیس ایک ساتھ سنے،جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ عدالت کے پاس کیا اختیار ہے کہ ملک بھر میں درج مقدمات کو ایک جگہ اکٹھا کریں۔پہلے آپ صوبائی سطح پر ایف آئی آر کو اکٹھا کریں، اپنی درخواست صوبائی کورٹ میں لے کر جائیں۔انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آئی ایم سی ہر کیس میں ملزم ہے ؟ جس پر اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ جی ہاں، آئی ایم سی ہر کیس میں ملزم ہے ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کووفاق کی جانب سے معاونت کی ہدایت کر دی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ یہ صوبائی معاملہ ہے۔ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس جاری کیے جائیں۔تحقیقات چل رہی ہیں۔ہدایات لے کر آگاہ کریں گے ۔ عدالت نے چاروں ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کر دیئے۔ کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔