2 اکتوبر 2014
وقت اشاعت: 22:8
تبدیلی یا انقلاب کے نام پر بحران پیدا کرنا ٹھیک نہیں، جسٹس ثاقب
جیو نیوز - اسلام آباد...... سپریم کورٹ میں ماورائے آئین اقدام کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ سیاسی گندگی دھونے کے لیے سپریم کورٹ کی لانڈری استعمال نہیں ہونے دیں گے،تبدیلی یا انقلاب کے نام پر بحران پیدا کرنا ٹھیک نہیں۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے عوامی تحریک کے وکیل سےکہاکہ لوگوں کو راستے میں روک کر ان کی پٹائی کر دو، یہ آپ کا انقلاب تو ہو سکتا ہے، کسی اور کا نہیں۔ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام کے خلاف سپریم کورٹ بار کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ عوامی جلسوں کے دوران پارلیمنٹ کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو حکومت کیسے نظر انداز کر سکتی ہے، کوئی دھرنے والا ہماری تلاشی لیتا ہے تو پولیس کہتی ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتی، کیا عوام کو اس طرح ہجوم کی دہشت کے حوالے کر دیا جائے، یہ حکومت رہے یا جائے، ہمیں کوئی غرض نہیں، ہمیں ریاست کی رٹ سے غرض ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے عوامی تحریک کے وکیل بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ آپ کی نظر میں یہ انقلاب ہے کہ گن پوائنٹ پر سپریم کورٹ کے ججز سے استعفیٰ لیں۔