12 اکتوبر 2014
وقت اشاعت: 13:23
12 اکتوبر 1999 کو منتخب حکومت کا تختہ الٹے جانے کے واقعے کو 15 سال مکمل
جیو نیوز - اسلام آباد........12 اکتوبر 1999 کو سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ ان کا دور آمریت 8 سال 10 ماہ ، 6 دن پر محیط رہا۔ 15 سال قبل اقتدار پر ایک آمر کے قبضے اور اس کے پاکستان پر اثرات کی کہانی یہ ہے کہ 12 اکتوبر 1999 وزیر اعظم نواز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نیا آرمی چیف بنا دیا ۔ لیکن جبری ریٹائر کیے گئے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم کا فیصلہ قبول نہ کیا۔ پھر ٹرپل ون بریگیڈ نے وزیر اعظم سیکریٹریٹ پر قبضہ کر لیا اور جمہوری وزیر اعظم کو ہتھکڑی لگا دی گئی۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ یہ ایک منتخب وزیر اعظم کا اغواء تھا،ایک شرمناک فعل تھا۔اقتدار پر قبضے اور وزیر اعظم کو قید کرنے کے بعد پرویز مشرف نے بھی ہر آمر کی طرح قوم سے روایتی خطاب کیا ۔ پرویز مشرف نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر امریکی اتحادی بننے کا فیصلہ کیا جس کی قیمت پاکستان خود کش حملوں اور معیشت کی تباہی کی صورت میں آج بھی چکا رہا ہے ۔ ڈکٹیٹر نے 9 مارچ 2007 کو چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کو غیر فعال کیا تو وکلاء تحریک گو مشرف گو کی ملک گیر عوامی تحریک بن گئی۔ این آر او اور 3 نومبر 2007 کی ایمرجنسی بھی پرویزمشرف کو نہ بچا سکی اور وردی کو کھال قرار دینے والے مشرف کو 28 نومبر 2007 کو فوجی کمان جنرل کیانی کے حوالے کر نا پڑی ۔اقتدار روٹھا تو ساتھی بھی بے بیگانے ہو گئے۔27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹوکی المناک شہادت کے بعد 18 فروری کے عام انتخابات میں عوام نے پرویز مشرف اور ان کے حواریوں کا حساب چکتا کر دیا ۔ مؤاخذے کے خوف سے 18 اگست 2008 کو پرویز مشرف کو استعفا دینا پڑا اور یوں ملک میں ایک اور طویل دور آمریت اپنے خاتمے کو پہنچا۔ وقت کے نشیب وفراز سے گزر کر میاں نواز شریف ایک بار پھر وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہیں جبکہ پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سنگین غداری کے مقدمے کا سامنا ہے۔جمہوریت پسندوں نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے 12 اکتوبر جیسے اقدامات کا راستہ روکنے کی کوشش توضرور کی ہے لیکن جمہوریت کی ناؤ کو آج نئے طوفانوں کا سامنا ہے۔