15 اکتوبر 2014
وقت اشاعت: 15:54
نااہلی کیس:اپیل قابل سماعت ہوئی تو طریقہ کارعدالت طے کریگی،جسٹس جواد
جیو نیوز - اسلام آباد........وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس جواد ایس خواجہ نےریمارکس دیئے ہیں کہ بادی النظر میں درخواست گزار کا حق دعویٰ تو بنتا ہے، درخواست قابل سماعت ہوئی تو عدالت طے کرے گی کہ طریقہ کار کیا ہوگا۔ دوران سماعت ججز دلچسپ ریمارکس دیئے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق درخواست کے قابل سماعت ہونے پر سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ سماعت کررہاہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے درخواست گزار وکیل سے مخاطب ہوکر کہاکہ کل بوریا بستر لے کر آئیے گا، آپ کو درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے ہیں، بادی النظر میں آپ کا حق دعویٰ تو بنتاہے، اگر درخواست قابل سماعت ہوئی تو عدالت طے کرے گی کہ طریقہ کار کیا ہوگا۔ دوران سماعت وزیراعظم کی پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی تقریر پر مخالف وکیل نے دلیل دی۔ اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ عدالت کو وزیر اعظم کی تقریر کا سرکاری متن دیا جائے۔ حکومت اور دھرنا پارٹیوں کے درمیان ثالثی کا ذکر آیا تو جسٹس دوست محمد خان نے استفسار کیاکہ کیا ترجمان آئی ایس پی آر کے ٹویٹ کو قانونی طور پر ثبوت قرار دے سکتے ہیں۔ انہوں نے صرف ٹویٹ کیا ہے،عموماً آئی ایس پی آر میڈیا کو بلاتا ہے، بریفنگ دیتا ہے اور میڈیا بھی سوال کرتا ہے، سوال یہ ہے کہ ترجمان آئی ایس پی آر نے جو بیان دیا کیا وہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کی بات کے گواہ تھے؟ کیا وہ بیان فوج کی طرف سے تھا یا آرمی چیف کی طرف سے؟ دوران سماعت جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دیئے کہ آپ ایک پرندے کو جال میں پھنسانے آئے ہیں، اس میں تو 100پرندے پھنس جائیں گے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جھوٹ بولے جارہے ہیں، سیاسی جماعتوں کے لیے ایک راستہ ہے کہ جو مرضی جھوٹ بولو کوئی مقدمہ نہیں چلے گا۔