19 اکتوبر 2014
وقت اشاعت: 5:2
بلاول بھٹوزرداری کامزارقائدپرخطاب سےسیاسی زندگی کاآغاز
جیو نیوز - کراچی........ذوالفقارعلی بھٹواوربےنظیربھٹوکےبعدبلاول بھٹوزرداری نے کراچی کے جلسے سے اپنی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغازکردیا ہے، بلاول بھٹونے کہاکہ پاکستان میں صرف دو قوتیں ہیں ایک بھٹو ازم دوسری آمریت۔اسکرپٹ کامقصدعمران خان کواپوزیشن لیڈربناناتھا،عمران خان دھرنوں کی ہیلمٹ سےمنہ باہرنکال کردہشتگردوں کی بالنگ کاسامناکریں۔ باغ قائد میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری آمریت پر برسے،جمہوریت کے خلاف سازشوں کا ذکر کیا،پیپلز پارٹی کی قربانیوں کا تذکرہ کیا،اور امپائر پر تکیہ کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا،بھٹو کے نواسے اور بے نظیر کے بیٹے نے کہا کہ پاکستان میں ایک طرف بھٹو کے چاہنےوالے ہیں اوردوسری جانب کسی آمر کی گود کے پالے، کسی امپائر کی انگلی کے منتظر لوگ ہیں۔اسکرپٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کبھی پی این اے، کبھی ضیا ،آئی جے آئی اور کبھی مشر کی صورت میں سامنے آیا۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی کٹھ پتلیوں کے دھرنے دیکھے مگر ہم اپنی ذمہ داری نہیں بھولے، دھرنا سیاست کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں سے خوف زدہ ہو تو آئی ڈی پیز کی خیریت معلوم کرلو۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ دھرنے والے آج بھی فائنل میچ کے لیے امپائر کی انگلی کا انتظار کر رہے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ جتناپیساڈھونگ میٹروبس پرلگایاگیا،اس سے 3 گنا کم پیسوں میں بھارت مریخ پر پہنچ گیا ، ماڈل ٹاون میں رکاوٹیں ہٹانے کے چکر میں 14 معصوم لوگ قتل کیےگئے، پھر ایف آئی آر بھی ان کے خلاف ہی درج کردی گئی۔بلاول بھٹونےمزارقائد پرجلسےسےخطاب میں کہا کہ ایم کیو ایم 20 سال سے کراچی کی حکمرانی کررہی ہے ،کراچی کو یتیم نہیں چھوڑیں گے، جب 2018 ءمیں شفاف انتخابات ہوںگےتو کراچی کوآزادی ملے گی اوربوکاٹاہوگا،جبکہ پی ٹی آئی لاہور کی ایم کیو ایم بننا چاہتی ہے۔ بلاول بھٹونےاسی تقریرمیں کہاکہ جب انہوں نے کشمیر کا نام لیا تو پورا ہندوستان چیخ اٹھا،انہیں غلط نہ سمجھاجائے وہ بھی مسئلہ کاحل چاہتےہیں اور پاک بھارت مذاکرات کو کشمیر کے مسئلے پر یر غمال نہیں بننے دیں گے ۔