27 دسمبر 2014
وقت اشاعت: 18:59
بے نظیر کے قتل کا مقدمہ تاحال منطقی انجام کو نہ پہنچ سکا
جیو نیوز - کراچی.........سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کو 7 سال بیت چکے مگر 230 سماعتو ں کے بعد بھی ان کے قتل کا مقدمہ منطقی انجام کو نہیں پہنچ سکا۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کیس کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں 230 سماعتیں ہو چکیں، سات جج تبدیل ہوئے مگر کیس تاحال ابتدائی مراحل میں ہے۔ مقدمے کی ابتدائی تفتیش پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے کی۔ بعدمیں تفتیش ایف آئی اے کی مشترکا تحقیقاتی ٹیم کے سپرد کر دی گئی۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ سے تحقیقات کرانے اور اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کرنے کی حکومتی درخواست کے باعث بھی خصوصی عدالت میں ٹرائل ڈیڑھ سال تاخیر کا شکار رہا۔وکلاء صفائی کا کہنا ہے کہ ٹرائل میں تاخیر کی بڑی وجہ بے نظیر بھٹو کے ورثاء کا مقدمے میں دلچسپی نہ لینا ہے۔ بے نظیر بھٹو قتل کیس کے ملزمان کےخلاف 9 عبوری چالان عدالت میں پیش کیے گئے، 5 ملزمان گرفتار ہیں جو اڈیالہ جیل میں قید ہیں جبکہ 3 ملزمان سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف، سابق سی پی او سعود عزیز اور سابق ایس پی خرم شہزاد ضمانت پر ہیں۔ سینئر پبلک پراسیکیوٹر چودھری ذوالفقار کے قتل کے بعد امریکی صحافی مارک سیگل نے پاکستان کی عدالت میں پیش ہو کر پرویز مشرف کے خلاف بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کیا جبکہ چند دیگر گواہوں نے دھمکیوں کے باعث عدالت آنے سے معذرت کر لی ہے۔ اب تک استغاثہ کے 130 میں سے صرف 26 گواہوں کے بیانات ہی قلم بند کیے جا سکے ہیں۔