تازہ ترین سرخیاں
 تازہ ترین خبریں 
2 جنوری 2015
وقت اشاعت: 20:20

دہشتگردی کی تعلیم دینے والے مدارس کو سامنے لایا جائے، مولانا امیر زمان

جیو نیوز - اسلام آباد ........جے یو آئی کے مولانا امیر زمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس مدرسے میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے اُسے سامنے لایا جائے، ایم کیو ایم کے آصف حسنین نے کہا کہ جو وزیراعلیٰ اور اس کی ٹیم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کردار ادا نہ کرے، اسے رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح ہوگا جس میں خصوصی عدالتوں کے قیام کا ترمیمی بل پیش کیا جائے گا۔اسپیکر ایاز صادق نے قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کرنے کا آرڈر پڑھا۔قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے حکام کے مطابق تعطیل کے باوجود قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا مقصد خصوصی عدالتوں کے قیام سے متعلق ترمیمی بل پیش کرنا ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس نے مسلم لیگ ن کے ارکان کو کل کے اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کر دی ہے۔ جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں فاٹا کے ارکان نے گورنر خیبر پختونخوا کی عدم دستیابی اور ان کے رویے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ شاہ گل آفریدی نے کہا کہ جب تک تحفظات دور نہیں ہوتے، واک آؤٹ جاری رہے گا۔سانحہ پشاور پر بحث کے دوران جے یو آئی ف کے رکن مولانا امیر زمان نے کہا کہ تمام مدارس کو بدنام نہ کیا جائے، ایوان میں ہونے والے فیصلوں اور تقاریر پر عمل نہیں ہوتا، ایوان کو اہمیت نہ دی گئی تو امن نہیں ہو گا۔ حکومتی رکن عمرا یوب نے کہا کہ اس وقت ملک و قوم کی بقاء کا مسئلہ ہے، سیاسی جماعتیں اگر مگر کے بغیر متحد ہوں، پھانسی یا فوجی عدالتیں منطقی انجام ہے، دہشت گردی کی جڑ ختم کرنا ہو گی،دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ابھی تک ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ میں کنفیوژن ہے۔ ایم کیو ایم کے ارکان عبدالوسیم،آصف حسنین اور کشور زہرہ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے جو قانون پہلے منظور کیے تھے ان پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا، ایوان کو طاقتور بنایا جائے، فیصلے یہاں سے کیے جائیں، دہشت گردی کے خلاف جو وزیراعلیٰ اور اس کی ٹیم اپنا کردار ادا نہ کرے اسے رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے شیر اکبرا ور عائشہ سید نے کہا کہ پہلے دیکھ لیں کہ وزیراعظم اور وزراء کے پاس کیا اختیارات ہیں، پارلیمنٹ سمیت سب ادارے فعال ہو جائیں تو ملک کو امن مل سکتا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.