شعراء 

یہ عجیب دل لگی ہے


اے تغیرِزمانہ یہ عجیب دل لگی ہے
نہ وقارِ دوستی ہے نہ مجال دشمنی ہے
یہ ظلمتیں چھنیں جو ترے سرخ آنچلوں میں
انہی ظلمتوں سے شاید مرے گھر میں روشنی ہے
میرے ساتھ تم بھی چلنا ،مرے ساتھ تم بھی آنا
زرا غم کے راستوں میں بڑی تیز تیرگی ہے
یہ مشاہدہ نہیں ہے مرے درد کی صدا ہے
میرے داغِ دل لٹے ہیں تیری بزم جب سجی ہے
غم زندگی کہاں ہے ابھی وحشتوں سے فرصت
ترے ناز اٹھا ہی لیں گے ابھی زندگی پڑی ہے
جسے اپنا یار کہنا اسے چھوڑنا بھنور میں
یہ حدیث دلبراں ہے یہ کمال دلبری ہے
وہ گزر گیا ہے ساغر کوئ قافلہ چمن سے
کہیں آگ جل رہی ہے کہیں راکھ سو گئ ہے

ہفتہ, 02 مارچ 2013

اس زمرہ سے آگے اور پہلے

اس سے آگےاس سے پہلے
حق کے لیے لڑنا تو بغاوت نہیں ہوتیتمہیں کتنا یہ بولا تھا
متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.