1 جون 2011
وقت اشاعت: 18:42
اسامہ بن لادن کے لئے سعودی عوام میں ہمدردی
اے آر وائی - ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے جاں بحق ہونے کے بعد سعودی عرب میں اسے ایک مقامی فرد کی حیثیت سے یاد رکھا جا رہا ہے۔ جدہ میں جہاں بن لادن کا بچپن گزرا لوگ اس کی موت پر آج بھی مختلف آراء کااظہار کررہے ہیں ۔ اسامہ کے بچپن کے دوست خالد بتافی نے انکشاف کیا ہے کہ اسامہ بن لادن بچپن میں ایک امن پسند اور صلح جو انسان تھا ۔خالد کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ فٹبال کھیلتے ہوئے مخالف ٹیم کے لڑکے نے اوسامہ کو دھکا دے کر گرا دیا جس پر خالد بتافی نے اس لڑکے کو دھکا دیکر اسامہ کا ساتھ دیا لیکن اسامہ نے خالد سے کہا کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا وہ معاملے کو یو نہی رفع دفع کر سکتا تھا ۔
اسامہ بن لادن کی جدہ میں واقع خاندانی رہائش گاہ ختم کر کے وہاں چھ منزلہ عمارت تعمیر کردی گئی ہے ۔اس عمارت کے اطراف میں رہنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہمسائیوں کی تاریخ سے نہ واقف ہے۔۔ اور واقف ہونا بھی نہیں چاہتا۔جبکہ اس کے ہمسائیوں میں سے ایک اور شخص نے اسامہ کی موت پر ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ اسامہ ایک مسلمان بھائی تھا ۔
ایک نو جوان کا خیال ہے کہ اسامہ نے مسلم امہ کے لئے اپنی جان کی قربانی دی ہے ۔ بعض کا خیا ل ہے کہ اسامہ کو قتل کر نے کا ڈرامہ رچایا گیا ہے اسی لئے امریکا ثبوت فراہم نہیں کررہاہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔اسامہ کے قریبی ساتھیوں خالد بتافی اور جمال خشوگی جو بعض معاملات پر اختلاف رائے کے باعث اسامہ سے الگ ہو گئے تھے وہ بھی اسامہ کی موت پر خوش نہیں ہیں ۔
اسامہ بن لادن بچپن سے ایک صلح جو اور امن پسند شخص تھا۔انیس سو اسی میں اس نے جدہ چھوڑا اور افغانستان میں جہاد کے لئے گیا ۔اس وقت سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک بھی جہاد کی حمایت کررہے تھے ۔انیس سو نوے کے دوران اسامہ نے جب سعودی عرب کا دورہ کیا تو اس وقت اس نے پیشگوئی کی تھی کہ صدام حسین کویت پر چڑھائی کرے گا جو وقت آنے پر درست ثابت ہوئی ۔
جمال خشوگی طویل عرصے تک اسامہ بن لادن کے ہمراہ رہے ہیں ۔خالد بتافی اور جمال خشوگی نے اسامہ بن لادن سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن بہت زیادہ انا پرست ہو گئے تھے۔یہ دونوں افراد اسامہ کے نظریات سے اتفاق نہیں رکھتے تھے اسی لئے انہوں نے اسامہ سے علیحدگی اختیار کی تھی ۔
سعودی حکومت نے اسامہ بن لادن کی موت پر خاموش رائے کا اظہار کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اسامہ کی موت سے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔اسامہ کی شخصیت کا سعودی عرب میں اثر ہے ۔یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس نے ایک نظریہ تخلیق کیا جو دہشت گردی کے ذریعے طاقت حاصل کرنے کا نظریہ تھا۔(بشکریہ: بی بی سی)