1 جون 2011
وقت اشاعت: 18:44
افغانستان سے فوج کا انخلاء جولائی سے شروع ہو گا
اے آر وائی - واشنگٹن : امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ جولائی سے امریکی فوج کا افغانستان سے انخلاءشروع ہو جائے گا جبکہ اسامہ کی ہلاکت سے القاعدہ کو شدید نقصان پہنچا اور افغانستان میں طالبان کا اثر ورسوخ بھی کم ہو گیا ہے ۔
واشنگٹن میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ سے امریکی تعلقات سے متعلق پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ بن لادن بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں معصوم جانوں کا قاتل تھا ، اس کا نظریہ صرف نفرت تھا جس کا اظہار انہوں نے مغرب کے خلاف اعلان جنگ کر کے کیا ، اسامہ بن لادن نے جمہوری نظام اور انفرادی حقوق کو مسترد کرتے ہوئے نظریہ تشدد کو فروغ دیا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری شورش سے متعلق صدر اوباما کا کہنا تھا کہ بحرین کی صورتحال سے ایران فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم امریکا بحرین کی داخلی سیکیورٹی کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گا ۔ اوباما نے کہا کہ بشارالاسد کو عوامی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے ، طاقت اور ظلم کے ذریعے اقتدار پر قابض نہیں رہنا چاہیے ۔
صدر اوباما نے کہا کہ لیبیا میں ہزاروں لوگوں کا قتل کیا جا چکا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ قذافی کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں ۔ انقلاب مصر سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں مصری عوام اور سول سوسائٹی کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رہے گا ۔
صدر بارک اوباما نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اسرائیل اور امریکا گہری دوستی کے بندھن میں بندھے ہیں ، خطے میں اس وقت تک امن کا قیام نہیں ہو سکتا جب تک فلسطینی رہنما حماس سے تعاون جاری رکھیں گے ۔انہوں نے اسرائیلی اورفلسطینی قیادت پر زور دیا کہ وہ دیرپا امن کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔