تازہ ترین سرخیاں
 عالمی خبریں 
23 اپریل 2016
وقت اشاعت: 11:28

نہرو یونیورسٹی تنازع، کنہیا کمار کی گرفتاری،بھارتی میڈیاتقسیم

جیو نیوز - نئی دہلی....جنگ نیوز....دہلی کی جواہر لا ل نہرو یونیورسٹی کی طلباء تنظیم کے صدر کنہیا کمار کی غداری کے الزامات کے تحت گرفتاری کے معاملے پر بھارتی میڈیا دو گروہوںمیں بٹ گیا۔

رواں ماہ ایک طالب علم کنہیا کمار کی غداری کے الزامات کے بعد گرفتاری پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں آزادی رائے پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ یہ بحث اس خیال کے گرد گھوم رہی ہے کہ آیا بھارتیہ جنتا پارٹی برطانوی دور کے قانون کا استعمال ایسے عناصر کے خلاف کررہی ہے جس سے اسے اختلاف ہے۔

کنہیا کمار پر الزام ہے کہ انھوں نے کشمیری رہنما افضل گورو کی پھانسی کی برسی کے موقع پر ایک ریلی کا انعقاد کیا تھا اور اس موقع پر 'بھارت مخالف نعرے لگائے تھےتاہم کمار نے ان الزامات کی تردید کردی تھی۔

اس بحث نے دو مختلف قسم کے گروہوں کو جنم دیا ہے جس کی جھلک ہمیں بھارتی میڈیا پر نظر آتی ہے جہاں 'قومی مفاد کا مقابلہ آزادی رائے سے ہے۔ٹائمز آف انڈیا حکمراں جماعت کے موقف کی تائید کرتا نظر آرہا ہے جس نے اس تنازعے کو 'بھارت پرحملے کی طرح پیش کیا ہے۔

اپنی کمنٹری کے دوران ٹائمز نے متعدد بار اپنے ناظرین کو یاددہانی کروائی ہے کہ 'قومی مفاد کی مخالف سرگرمیوں کو آزادی رائے کے روپ میں چھپایا نہیں جاسکتا۔

ٹائمز ناؤ کے ایک اینکر کہتے ہیں 'آپ کسی دہشت گرد کو کیسے عظمت کا نشان قرار دے سکتے ہیں؟وہ ناظرین کو اس فلم اسکریننگ کے کچھ مناظر دکھارہے تھے جہاں کنہیا کمار نے مبینہ طور پر ہندوستانی مخالف نعرے لگائے تھے۔

زی نیوز کی فوٹیج میں جے این یو کے طالب علم 'پاکستان زندہ باد اور کشمیر کے حق میں نعرے لگاتے دکھائے گئے۔ اسی فوٹیج کو سوشل میڈیا اور دیگر جگہوں پر کمار کی رہائی کے خلاف بھی استعمال کیا گیا۔

چینل نے ابتداء سے ہی اپنے موقف کا کھل کر اظہار کردیا تھا۔ زی نیوز کے ایڈیٹر سدھیر چوہدری نے اپنے معروف ٹی وی شو ڈی این اے پر کہا کہ 'ہم ہندوستان کی توہین برداشت نہیں کریں گے، غداروں کو چھوڑا نہیں جائے گا۔۔

اس پورے تنازع کے دوران چینل خود اس وقت تنازعے کا شکار ہوگیا جب اس کے ایک پروڈیوسر نے استعفیٰ دے دیا۔

استعفے کے بعد انڈین ایکسپریس سے گفتگو میں پروڈیوسر کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ویڈیو میں غیر واضح نعرے سنے تھے تاہم زی نیوز کے ایڈیٹرز کو لگا کہ یہ نعرے 'پاکستان زندہ باد جیسے لگتے ہیں اور ہم نے اسی کیپشن کے ساتھ ویڈیو چلادی۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.