28 اپریل 2016
وقت اشاعت: 8:28
برطانوی مسلمانوں کے کمر عمر بیٹیوں کو انٹرنیٹ پر نکاح پر مجبور کرنے کا انکشاف
جیو نیوز - کراچی......رفیق مانگٹ......برطانیہ میں مقیم دیگر ممالک کے اکثر مسلمان خاندان اپنی کم عمر بیٹیوں کے نکاح اپنے آبائی وطن ان رشتہ داروں سے کردیتے ہیں تاکہ انہیں برطانیہ کا ویزہ دلاسکیں۔
بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ نے برطانوی اخبار ’’سنڈے ٹائمز‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ برطانیہ میں مقیم متعددمسلمان لڑکیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے نکاح پر مجبور کیا جاتاہے۔
اسکائپ کے ذریعے ان غیر ملکی پارٹنر سے اس وعدے پر شادی کی جاتی ہے کہ ان کو بیوی کی وجہ سے برطانوی ویزا ملے گا۔ برطانیہ میں زبردستی لڑکیوں کی شادی کرنا ممنوع ہے اس کے باوجود 11؍ برس کی مسلمان لڑکیوں کا مسجدوں کے امام اسکائپ کے ذریعے نکاح پڑھا دیتے ہیں۔
نکاح کے بعد ان لڑکیوں کو طیارے پر سوار کرا دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے شوہروں کے پاس پہنچ جائیں اور جلد از جلد ازدواجی زندگی شروع کرسکیں۔