3 مئی 2016
وقت اشاعت: 7:4
ایران کا عراق جنگ میں 700 قیدی قتل کرنیکا اعتراف
جیو نیوز - تہران......ایران کی مجلس شوریٰ کے ایک سرکردہ رکن نے اعتراف کیا ہے کہ 1980ء تا 1988ء کے دوران عراق پر حملے کے دوران المعارہ اور بصرہ شہروں میں در اندازی کرتے ہوئے 600 سے 700 عراقی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی مجلس شوریٰ کے رکن پارلیمنٹ نادر قاضی بور کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ عراق جنگ کے دوران ہمارے فوجیوں نے عراق میں گھس کر 600 سے 700 کے درمیان عراقی قیدیوں کو قتل کردیا تھا۔
ویڈیو فوٹیج میں ایرانی رکن پارلیمنٹ کو حالیہ پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد مغربی ایران کے رومیہ شہر میں اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عراق جنگ کے دوران 13 افراد پر مشتمل ایک گروپ کے کمانڈر تھے۔ ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے مرشد اعلیٰ کی ہدایت پر ہم ان تمام عراقی قیدیوں کو ہلاک کر دیں جو جنگ کے نتیجے میں ایرانی فوج نے گرفتار کر لیے تھے۔
انٹرنیٹ پر پوسٹ کئے گئے اس متنازع بیان پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے قاضی بور کے بیان کو جنگی جرم کا اعتراف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس بیان کی تحقیقات کے لیے عالمی قوانین کو حرکت میں آنا چاہیے۔
نادر قاضی نے حال ہی میں پارلیمانی انتخابات میں 14 خواتین کی بطور رکن پارلیمنٹ کامیابی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ صرف مردوں کی جگہ ہے، یہاں خواتین کا کیا کام ہے، کیا ہم اب خواتین کے ساتھ بحث ومباحثہ کریں گے۔
سوشل میڈیا پر نادر قاضی بورکے اس متنازع بیان پر سخت رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ بنیاد پرست عناصر نے ان کی حمایت کی ہے مگر اعتدال پسند کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نادر قاضی کے بیانات کے بعد وہ خود بھی رکن پارلیمنٹ کا حق کھو چکے ہیں، پارلیمنٹ کو چاہیے کہ انہیں تحفظ نہ دے بلکہ ان کے خلاف کارروائی شروع کرے۔