1 جون 2011
وقت اشاعت: 17:21
میٹرک امتحانات: نقل کرانے پر تین اساتذہ برطرف
اے آر وائی - سکھر: انتظامیہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ گورنر سندھ کا نوٹس بے سودامتحانی مراکز میں نقل کے تمام سابقہ رکارڈ ٹوٹ گئے طلبہ اور طالبات گائیڈیں سامنے رکھ کر کھلم کھلا نقل کرتے رہے ۔
سکھر سمیت اندرون سندھ میں ثانوی و اعلیٰ ثانوی بورڈ کے تحت نویں اور دسویں کے امتحانات جاری ہیں۔ امتحانات میں نقل کی رول تھام کے لیے دس سے زائد چھاپہ مار ٹیمیں دی گئی ہیں۔سکھر گھوٹکی ،پنوعاقل،خیرپور،نوشہروفیروا،رانی پور اورریجن بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں ایک سو اسی سے زائد امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں ۔ جبکہ امتحانی اوقات کے دوران متعلقہ ڈی سی اوز کی جانب سے دفہ ایک سو چالیس نافذ کی گئی ہے ،لیکن اسکے باوجود آج بھی طلبہ وطالبات امتحانی مراکزمیں کھلے عام نقل کرنے میں مصروف رہے ۔ دفعہ ایک سو چوالیس نافذکئے جانے کے باوجود امتحانی مراکز کے باہر نقل کرانے والوں کا ہجوم رہا اور فوٹو اسٹیٹ کی دوکانیں کھلی رہی۔
میڈیا پر نقل کی خبر نشر ہونے کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے نوٹس کے بعد چیئرمین بورڈ سکھرعلی شاہ بخاری نے متحرک ہوتے ہوئے سکھر کے مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کیا اور نقل کرانے پر تین اساتذہ ڈیوٹی سے بر طرف کر دیا۔ جبکہ مختلف امتحانی مراکز میں چھاپے مار کر نقل کرنے والے دو سو سے زائد طلبہ اور طالبات پر کاپی کیس کرکے پرچے لے کر انہیں گھر بھیج دیا ۔اور ہزاروں کی تعداد میں گائیڈیں اور نقل کرنے کا مود اپنے قبضے میں لے لیا ۔