تازہ ترین سرخیاں
 شہر شہر کی خبر 
20 جنوری 2012
وقت اشاعت: 18:50

پنجاب اسمبلی:اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں تلخ کلامی

اے آر وائی - پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب کے لوگوں کو نوکریاں نہ دینے کے مسلئے پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں تلخ کلامی ،چرچ مسمار کرنے کے مسلئے پر اقلیتی رکن اسپیکر سے الجھ پڑے۔



پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران حکومتی وزیر اور ارکان کے درمیان دلچسپ بحث ہوئی ایک رکن کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر ملک ندیم کامران نے کہا کہ لاہور اعجائب گھر سے کچھ غیر اہم نوادرات چوری ہوئے جس کے جواب میں حکومتی رکن نے کہا کہ وزیر موصوف کو بتایا جائے کہ غیر اہم اشیا عجائب گھر میں نہیں رکھی جاتیں اپوزیشن ارکن عظمی زاہد بخاری نے کہا کہ جنوبی پنجاب ن لیگ کی حکومت کے لیے گالی کیوں بن گیا ہے جنوبی پنجاب کے کوٹے پر فیصل آباد اور لاہور کے لوگوں کو نوکریاں دی جارہی ہیں کیا فیصل آباد اور لاہور ہی پنجاب ہیں جنوبی پنجاب کے لوگوں کو چوکیداری کے قابل بھی نہیں سمجھا جا رہا ۔



جواب میں صوبائی وزیر ملک ندیم کامران نے کہا کہ پنجاب ایک ہے بار بار جنوبی پنجاب کا نام نہ لیا جائے وقفہ سوالات کے بعد پوائنٹ آف آرڈر پر اقلیتی رکن انجینئر شہزاد نے کہا کہ پنجاب حکومت نے دس کینال زمین پر قبضے کے لیے چرچ کو مسمار کرکے انکی مذہبی کتاب کی توہین کی آج اگر انہیں نہ بولنے دیا گیا تو اجلاس کی کاروائی نہیں چلے گی ۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ وہ دھمکیوں میں آنے والے نہیں ہیں جس کے جواب میں انجینئر شہزاد نے کہا کہ اگر وہ نہیں بول سکتے تو پھر کورم پورا کیا جائے کورم کی نشاندہی اور کورم پورا نہ ہونے کے باعث پنجاب کا اجلاس پیر سہہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا ۔



اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انجینئر شہزاد نے کہا کہ پنجاب خکومت چرچ کو مسمار کر کے اس جگہ پر کلثوم نواز ٹرسٹ تعمیر کرنا چاہتی ہے چرچ مسمار کرنے کا مقدمہ وزیر اعلی پناجب کے خلاف درج کیا جائے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.