شعراء 

دھرم کی بانسری سے راگ نکلے


دھرم کی بانسری سے راگ نکلے
وہ سوراخوں سے کالے ناگ نکلے

رکھو دیر و حرم کو اب مقفّل
کئی پاگل یہاں سے بھاگ نکلے

وہ گنگا جل ہو یا آبِ زمزم
یہ وہ پانی ہیں جن سے آگ نکلے

خدا سے لے لیا جنت کا وعدہ
یہ زاہد تو بڑے ہی گھاگ نکلے

ہے آخر آدمیت بھی کوئی شے
ترے دربان تو بُل ڈاگ نکلے

یہ کیا انداز ہے اے نکتہ چینو
کوئی تنقید تو بے لاگ نکلے

پلایا تھا ہمیں امرت کسی نے
مگر منہ سے لہو کے جھاگ نکلے

جمعرات, 21 فروری 2013

اس زمرہ سے آگے اور پہلے

اس سے آگےاس سے پہلے
وہ خون بھی تھوکے گا تو پروا نہ کریں گےتمہیں کتنا یہ بولا تھا
متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.