15 مارچ 2014
وقت اشاعت: 16:38
مواصلاتی نظام ناکارہ بنا کرجہاز کو قازقستان یا جنوبی بحرِ ہند لے جایا گیا،ملائیشین وزیراعظم
جیو نیوز - کوالا لمپور…8دن گزر گئے، ملائیشیا کا مسافر طیارہ کہاں گیا، اغوا ہوا، تباہ ہوا، سمندر میں ڈوبا یا تخریب کاری کا شکار ہوا۔ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق کہتے ہیں کہ مواصلاتی نظام ناکارہ بنا کر جہاز کو قازقستان یا جنوبی بحرِ ہند لے جایا گیا۔ آٹھ روز پہلے ایک بوئنگ مسافر جہاز نے کوالالمپور سے ا ڑان بھری، منزل تھی چار گھنٹے دوری پر چین کا دارالحکومت بیجنگ، رات پونے دو بجے ملائیشین کنٹرول نے پائلٹ کو پیغام بھیجا کہ رابطہ ویت نام ائیر ٹریفک کو منتقل کیا جارہا ہے، کاک پٹ سے جواب آیا، آل رائٹ راجر دیٹ اور پھر سناٹا چھا گیا۔35ہزار فٹ کی بلندی سے ملائیشن ائیر ویز کی پرواز ایم ایچ 370 ایسے غائب ہوئی،جیسے کبھی اس کا وجود ہی نہ تھا، نہ فضا میں کوئی سراغ ملا، نہ سمندر میں کوئی نشان، نہ زمین پر دیکھا گیا، نہ جنگل میں،گیا تو گیا کہاں، پہلے خدشہ ظاہر کیا گیا، کہ سمندر کی تہہ میں کہیں بیٹھ گیا، پھر جزائر انڈیمان کا نام لیا گیا کہ شاید وہاں اتار لیا گیا، جہاں پانچ سو چھوٹے بڑے جزیرے ہیں اورایک ہوائی بازی کے ماہر کے مطابق یہاں جہاز ڈھونڈنا بھوسے میں سے سوئی تلاش کرنے جیسا ہے۔ اب جہاز ہائی جیک ہونے کے خدشے نے سر اٹھالیا ہے۔ ملائیشین حکام کہتے ہیں کہ پائلٹ یا کسی اورشخص نے ہائی جیک کرلیا۔وزیر اعظم نجیب رزاق کے مطابق کہ قازقستان اوربحر ہند میں تلاش جاری ہے، جہاز اپنے روٹ سے مڑا اورآبنائے ملاکا کی جانب نکل گیا، مواصلاتی نظام بھی تباہ کردیا گیا۔ 12ملک الجھی ہوئی ڈور کا سرا ڈھونڈ رہے ہیں، کنٹرول ٹاور سے آخری رابطے کے بعد چار گھنٹوں تک سیٹلائٹ پر سگنل آتے رہے، یعنی کوئی تو جگہ تھی جہاں جہاز موجود تھا۔ امریکی میڈیا نے ڈور کا ایک سرا پاکستان تک پہنچادیا ہے اوریہیں سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ طیارہ 22سو کلو میٹر سفر طے کر پاکستان پہنچا ہو،لیکن اگر طیارے کو پاکستان لایاگیا تو یقینا یہ بھارتی فضائی روٹ سے گزار ہوگا،بھارتی حکام نے ایسی کوئی خبر نہیں دی کہ ان کی حدود سے کوئی ایسا طیارہ گزرا ۔دوسری جانب چین نے بھی ملائیشیا سے تفصیلی اور بالکل درست معلومات کے حصول کا مطالبہ کردیا ہے۔