24 مارچ 2014
وقت اشاعت: 14:34
ملائیشین ایئرلائنز کا گمشدہ طیارہ، سراغ لگانے کیلئے عالمی سطح پر کوششیں
جیو نیوز - کراچی…ملائیشین ایئرلائنز کے گمشدہ طیارے کا سراغ لگانے کے لیئے عالمی سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں۔ جس میں حالانکہ اب تک کوئی خاص کامیابی نہیں ملی لیکن سیٹلائٹ سے حاصل کچھ تصاویر میں جہاز کے ممکنہ ملبے کے آثار نے لوگوں میں امید پیدا کردی ہے۔ملائیشین ایرلائنز کے گمشدہ طیارے کی تلاش اب تیسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے۔ جس میں دنیا کے 26 ممالک اپنے تمام تر وسائل کا استعمال کررہے ہیں۔ملائیشن ایئرلائنز کا طیارہ 8 مارچ کو بیجنگ کے لیئے روانہ ہوا تھا۔ اور اس میں عملے سمیت 239 مسافر سوار تھے۔مگر ابتدائی اندازوں کے مطابق طیارے کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوگیا تھا۔طیارے کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات کے بعد سے ہی ہمسایہ ممالک اس جہاز کے فضائی راستے پر اس کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ جس میں بحرہ چین اور آبنائے ملاکہ پر پہلے توجہ دی گئی۔ مگر بعد میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ان دو راہداریوں یا کوریڈورز پر توجہ مرکوز کردی گئی۔ اور تقریباً 18 بحری جہازوں، جدید ٹیکنالوجی سے لیس 29 طیاروں اور 6ہیلی کاپٹروں کو ان راہداریوں میں تلاش کے کام پر لگادیا گیا ۔ پہلی راہداری یعنی شمالی کوریڈور تقریبا 2 کروڑ مربع میل تک پھیلی ہوئی ہے اور اس میں چین اور شمالی تھائی لینڈ سے لے کر قازقستان اور ترکمانستان کے سرحدی علاقے آتے ہیں۔اس راہداری پر چین اپنی 21 سیٹلائٹس ، کئی بحری اور ہوائی جہازوں کی مدد سے تلاش کا کام کررہا ہے۔جبکہ ملائیشیا کے دو ، جبکہ جاپان اور امریکاکے کے بھی ایک ایک ہوائی جہاز اس علاقے میں موجود ہیں۔ان کے علاوہ کمبوڈیا کے 4 ہیلی کاپٹر جبکہ لاوٴس، تھائی لینڈاور ویتنام کی فضائیہ بھی اس علاقے میں اپنے جہازوں کی مدد سے تلاش کا کام کرہی ہیں۔جبکہ جنوبی کوریڈورجو انڈونیشیا سے جنوبی بحر ہند تک جاتا ہے۔ اس میں مختلف ملکوں کے 25 ہوائی جہاز لاپتہ طیارے کی تلاش کررہے ہیں۔ جبکہ 18بحری جہاز اور 6 ہلی کاپٹر بھی موجود ہیں۔حال ہی میں اس کوریڈور میں آسٹریلوی شہر پرتھ سے 25سو کلومیٹر دور سیٹلائٹ کی تصاویر میں ممکنہ طور پر جہاز سے ملتا جلتا ملبہ دکھائی دیا ہے۔جس کے بعد سے اس مقام پر آسڑیلیا کے دو AP-3C Orion ، امریکا بحریہ کا P-8 Posiedon اور نیوزی لینڈ کے P-3 K2 جہازوں کو بھی بھیج دیا گیا ہے۔ جو اس مقام پر تلاش کا کام کررہے ہیں۔جبکہ برطانیہ اور جاپان کے جہاز بھی اس تلاش کے لیئے آگئے ہیں۔
..