26 جولائی 2011
وقت اشاعت: 7:43
پاکستان آج بھی قدرتی آفات سے نمٹنے کیلیے تیار نہیں،آکسفیم
لندن: بین الاقوامی امدادی ادارے آکسفیم نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین تباہی کے ایک سال بعد بھی سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے صحیح طور پر تیار نہیں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دو کروڑ سے زائد افراد گزشتہ سال آنے والے سیلاب سے متاثر ہوئے تھے جبکہ ہلاک ہونے والی کی تعداد بھی ایک ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔
آکسفیم کی ایک رپورٹ میں بحالی اور تعمیر نو کے کام کی رفتار پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مون سون کا نیا سیزن شروع ہو چکا ہے جبکہ گزشتہ سال متاثر ہونے والے آٹھ لاکھ خاندانوں کے پاس ابھی تک کوئی مستقل رہائش نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بیشتر حصے میں ابھی تک سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والے نظام موجود نہیں ہے۔
گزشتہ اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اسے پاکستان میں سیلاب سے متاثرین کی بحالی کے ابتدائی منصوبوں کے لیے ساٹھ کروڑ ڈالرامداد کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ نے سن دو ہزار دس کے سیلاب کے بعد عالمی برادری سے ایک اعشاریہ نو ارب ڈالر امداد کی اپیل کی تھی۔ یہ امداد ہنگامی حالات سے نمٹنے اور متاثرین کی بحالی کے منصوبوں پر خرچ کی جانی تھی۔ ایک سال گزرنے کے باوجود اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اُس کی اپیل کا تیس فیصد حصہ وصول نہیں ہوسکا۔
ادارے کے مطابق سیلاب کے متاثرین کی بحالی کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور ابتدائی اہداف کے حصول کے لیے مزید ساٹھ کروڑ ڈالر درکار ہیں۔ ساتھ ہی اقوامِ متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بحالی نامکمل ہونے کی وجہ سے اس سال بھی بیس لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں سیلاب کی صورتحال پر نظر رکھنے والے وفاقی فلڈ کمیشن نے اتوار تک، ملک کے تمام دریاؤں میں پانی کی سطح کو معمول کے مطابق قرار دیا ہے۔ اگرچہ ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن فلڈ کمیشن کے مطابق، پانی کے دو بڑے ذخیروں منگلا اور تربیلا ڈیم میں فی الوقت پانی کی سطح، اُن کی استعداد سے کہیں کم ہے۔