1 دسمبر 2013
وقت اشاعت: 13:34
راولپنڈی کا بلال الف ب پے پورا یقین رکھتا ہے
راولپنڈی… وہ رات کے اندھیروں میں کچرا چنتا ہے لیکن ا ، ب پ کے اجالوں کا بھی مسافر ہے ۔عزم جواں ، حوصلہ بلند ہے اور بلا ل کو یقین ہے کہ تاریک راہیں مشکل سہی ، وہ اپنی منزل پا کے ہی رہے گا۔شہر پہ شب تاریک جب اپنی زلف کے سائے دراز کرتی ہے تو کوئی نیند کی وادیوں سے نکل کر جیون کے پہیے کو حرکت دیتا ہے، اور پھر افلاس ومجبوری کی سیڑھیاں پھلانگتا چلا جاتا ہے۔وہ خوابوں کے دوش پہ مرادوں کی گلی کا مسافر ہے۔ اک تڑپ ، اک جستجو سی ہے۔ اور بلال ہر سیا ہ رات کے سنسان سینے پہ ہلچل مچاتا، قریہ قریہ ، نگری نگری مایوسیوں کی گرد سے کامرانیوں کی کرنیں تلاش کرتا پھرتا ہے۔سینے میں علم کی شمع روشن ہے اور اس انوکھے طالب علم کی جداگانہ سا ئیکل کسی خوشنما اسکول یا کالج کی پارکنگ میں نہیں، کوڑے ، کرکٹ اور بد بو کے ڈھیر پہ آ کر رکتی ہے۔گند گی کے یہ انبار بلال کی پڑھائی کا ساماں پیدا کرتے ہیں ، و ہ کوڑے کے ڈھیر سے کام کی چیزیں چنتا ہے اور انہیں بیچ کر اس نے نہ صرف انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی بلکہ بوڑھے والدین کا سہارا بنا اور ایک بہن کی شادی بھی کرائی۔بلال کے علم کا سفر ابھی تمام نہیں ہوا، وہ تلخی حیات کی کالی رات سے نکل کر آس کے نکھرتے ہوئے اجالوں کی شمیم تلے گریجوایشن کرنا چاہتا ہے۔آج علم کے اس مسافر کی منزل کا پڑاوٴشاید یہ سڑاند بھرا کچرا گھر ہے ، لیکن بلال کو یقین ہے کہ کل حالات کے ترازو میں اس کی کامیابیوں کا پلڑا بھاری رہے گا۔