تازہ ترین سرخیاں
 صحت 
2 اگست 2013
وقت اشاعت: 12:21

5تا 7برس میں لیبارٹری میں تیار گردوں کی پیوند کاری ممکن ہوگی، ماہرین

بوسٹن…طبی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اگلے پانچ سے سات برسوں میں انسانی جسم میں لیبارٹری میں تیار کردہ گردوں کی پیوند کاری کا طریقہ ڈھونڈ لیا جائے گا۔ امریکی ریاست میساچوسسٹس کے شہر بوسٹن میں دنیا میں پہلی مرتبہ ایک چوہے کا گردہ تخلیق کرلیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی ایجاد سے مستقبل میں انسانوں کے رہنے کا انداز بدلا جا سکتا ہے۔ یہ تحقیق بطور خاص ان لوگوں کیلئے اچھی ہے جو گردوں کے امراض میں مبتلا ہیں اور جنہیں گردوں کے عطیے کیلئے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ صرف امریکا میں ہی ہر برس 17ہزار سے زائد افراد گردوں کے مرض کی آخری اسٹیج میں کسی دوسرے شخص کی جانب سے گردہ عطیہ کئے جانے کا انتظار کرتے ہیں لیکن یہ تعداد گردوں کے ان مریضوں کی تعداد کا محض ایک معمولی سا عدد ہے جو گردوں کی تکلیف میں مبتلا ہیں اور گردوں کے ٹرانسپلانٹ ہونے کے انتظار میں ہیں۔ ان میں سے 90فی صد افراد ڈائیلیسز پر ہیں جبکہ بہت سے افراد گردہ ملنے کے انتظار اور آس میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف پٹس برگ کے اسٹیفن بیڈیلیک جو اعضاء کی پیوند کاری کے ماہر ہیں، نے کہا ہے کہ تحقیق دان ہیرلڈ اوٹ اور بوسٹن میساچوسسٹس جنرل اسپتال میں ان کے ساتھیوں کی یہ نئی دریافت میڈیکل سائنس کیلئے خوش کن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ہیرلڈ اوٹ کی لیبارٹری میں چوہے کا گردہ یوں تو فعالیت کے اعتبار سے متاثر کن تھا لیکن یہ گردہ اس طرح سے کام نہیں کر سکا جس طرح کہ انسانی جسم میں موجود گردہ کرتا ہے۔ اسٹیفن بیڈی لیک کہتے ہیں کہ جس تیزی سے شعبہ طب میں ترقی ہو رہی ہے ہمیں امید کرنی چاہئے کہ اگلے پانچ سے سات برسوں میں انسانی جسم میں لیب میں تیار کردہ گردوں کی پیوند کاری کا طریقہ آج کے دور کی نسبت زیادہ آسان اور سہل ہوگا اور مریضوں کو گردے کے عطیہ کیلئے انتظار کی زحمت بھی نہیں اٹھانا پڑے گی۔ تاہم امریکی محکمہ خوراک و ادویات نے اب تک اس گردے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

متن لکھیں اور تلاش کریں
© sweb 2012 - All rights reserved.