19 اگست 2013
وقت اشاعت: 9:35
خیبر پختون خوا میں انسدادپولیو مہم مشکلات کا شکار
پشاور…پولیو پر قابو پانے کیلئے اقدامات کے باوجود اس مرض میں اضافے نے محکمہ صحت کے منصوبہ سازوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ خیبر پختون خوا میں انسداد پولیو مہم چلانا اب مشکل ہو گیاہے۔ایک طرف امن و امان کا خطرہ ہے تو دوسری طرف وفاق کی طرف سے فنڈز کی عدم فراہمی نے سونے پر سہاگہ کاکام کیا ہے۔خیبر پختونخوا اور فاٹا میں انسداد پولیو مہم بے اثر ہوتی جارہی ہے۔ محکمہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کے دوران خیبر پختونخوا میں پو لیو کے چھ نئے کیسز رپورٹ کیے گئے ۔ مردان اور بنوں میں دو ،دو جبکہ پشاور اورملاکنڈ میں ایک ایک کیس سامنے آیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں پو لیو کے 14 نئے کیسز رپورٹ کئے گئے۔رپورٹ کے مطابق جن علاقوں تک پو لیو ٹیموں کی رسائی ممکن نہیں۔ وہاں سے پو لیو کے نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔لیکن دوسری طرف دلچسپ امر یہ ہے کہ بچوں کو پولیو ویکسین پلانے والی ورکرز ہی پولیو مہم میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہیں جس کی بڑی وجہ انہیں تنخواہوں کی عدم ادائیگی ہے۔وفاق سے فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے چودہ ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز،سپر وائزر اور دیگر عملے کوتنخواہوں کی ادائیگی گذشتہ تین ماہ سے نہیں ہوئی۔خیبر پختون خوا حکومت نے پولیو مہم کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے وفاق سے 26 کروڑ روپے طلب کئے ہیں،اگر یہ رقم نہ ملی اور پولیو ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی نہ کی گئی تو صوبے اور قبائلی علاقوں کو پولیو سے پاک کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا۔